تحریر: ایم اے زیب رضا خان
زندگی کا حسن صرف کامیاب ہونے میں نہیں بلکہ اعتماد کو نبھانے میں بھی ہے۔ انسان اپنی محنت، قابلیت اور جدوجہد کے بل بوتے پر ضرور آگے بڑھتا ہے، لیکن اس سفر میں کسی نہ کسی مقام پر کوئی ایسا شخص ضرور ملتا ہے جو اس پر اعتماد کرتا ہے، اس کا ہاتھ تھامتا ہے، اسے ایک موقع دیتا ہے اور اس کی صلاحیتوں پر یقین رکھتے ہوئے آگے بڑھنے کا راستہ ہموار کرتا ہے۔ ایسے میں اگر انسان اسی اعتماد کو توڑ دے تو وہ صرف ایک شخص کو نہیں بلکہ انسانیت کے ایک عظیم اصول کو مجروح کرتا ہے۔ اسی حقیقت کو نہایت خوبصورتی سے اس محاورے میں بیان کیا گیا ہے کہ "موقع دینے والے کو کبھی دھوکہ نہ دو، اور دھوکہ دینے والے کو کبھی موقع نہ دو۔”
موجودہ دور میں جب معاشرہ اخلاقی بحران، بے اعتمادی اور مفاد پرستی کا شکار ہے، یہ محاورہ پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ آج کاروبار سے لے کر سیاست تک، سرکاری اداروں سے لے کر نجی شعبے تک، اور خاندانی تعلقات سے لے کر سوشل میڈیا تک، ہر جگہ اعتماد کی بنیاد پر رشتے قائم ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ذاتی مفاد کی خاطر لوگ انہی ہاتھوں کو کاٹنے لگے ہیں جنہوں نے انہیں سہارا دیا تھا۔
ہمارے معاشرے میں بے شمار نوجوان ایسے ہیں جنہیں کسی استاد نے پڑھایا، کسی بزرگ نے رہنمائی دی، کسی دوست نے مشکل وقت میں سہارا دیا، کسی ادارے نے ملازمت دی یا کسی سرمایہ کار نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے کاروبار شروع کروایا۔ مگر جب کچھ لوگ اسی اعتماد کو دھوکے، خیانت یا ناشکری سے جواب دیتے ہیں تو صرف ایک تعلق نہیں ٹوٹتا بلکہ آئندہ آنے والے مستحق افراد کے لیے بھی مواقع کے دروازے بند ہونے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک شخص کی بددیانتی کا خمیازہ کئی بے گناہ افراد کو بھگتنا پڑتا ہے۔
اسلام نے امانت، دیانت اور وفاداری کو ایمان کا حصہ قرار دیا ہے۔ مسلمان کی پہچان اس کی سچائی، وعدے کی پاسداری اور امانت کی حفاظت ہے۔ اگر کوئی آپ پر اعتماد کرے تو اس اعتماد کو عبادت سمجھ کر نبھانا چاہیے، کیونکہ اعتماد کا صلہ دھوکہ نہیں بلکہ وفاداری ہے۔
دوسری جانب، زندگی ہمیں ایسے افراد سے بھی متعارف کراتی ہے جو بارہا دھوکہ دیتے ہیں، وعدے توڑتے ہیں، امانت میں خیانت کرتے ہیں اور ہر مرتبہ معافی یا جذبات کا سہارا لے کر دوبارہ وہی غلطی دہراتے ہیں۔ ایسے افراد کو مسلسل مواقع دینا نہ صرف اپنی حق تلفی ہے بلکہ دوسروں کے حقوق سے بھی کھیلنے کے مترادف ہے۔ اسلام معاف کرنے کی تعلیم ضرور دیتا ہے، لیکن اندھا اعتماد کرنے کی نہیں۔ حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ جس نے بار بار دھوکہ دیا ہو، اسے دوبارہ وہی اختیار اور وہی موقع نہ دیا جائے۔
بدقسمتی سے آج ہماری سیاست میں بھی یہی مسئلہ نمایاں نظر آتا ہے۔ عوام بارہا انہی وعدہ خلاف عناصر کو دوبارہ اقتدار سونپ دیتے ہیں جنہوں نے پہلے بھی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہوتی ہے۔ نتیجتاً مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح کاروباری دنیا میں بھی دھوکے باز افراد کو بار بار شراکت داری کا موقع دینا نئے نقصانات کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں بھی احتیاط ناگزیر ہو چکی ہے۔ جھوٹی خبروں، جعلی اسکیموں، مالی فراڈ اور مصنوعی ہمدردیوں نے اعتماد کے تصور کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ایسے ماحول میں ہر شخص کو چاہیے کہ جذبات سے زیادہ عقل اور تحقیق کو اہمیت دے، تاکہ دھوکے سے محفوظ رہ سکے۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنی نئی نسل کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دینی ہوگی۔ انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ اگر کوئی استاد، والدین، ادارہ یا دوست ان پر اعتماد کرے تو وہ اپنی دیانت، کردار اور محنت سے اس اعتماد کا قرض ادا کریں۔ اور اگر کوئی شخص مسلسل دھوکے کا مرتکب ہو تو اس کے ساتھ معاملات میں احتیاط برتیں، کیونکہ بار بار ایک ہی غلطی دہرانا دانشمندی نہیں۔
یہ محاورہ دراصل زندگی کا ایک مکمل ضابطۂ اخلاق ہے۔ یہ ہمیں ایک طرف شکرگزاری، وفاداری اور امانت داری کا سبق دیتا ہے، جبکہ دوسری طرف بصیرت، احتیاط اور درست فیصلہ کرنے کی تعلیم بھی دیتا ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جن پر مضبوط خاندان، کامیاب ادارے اور مہذب معاشرے قائم ہوتے ہیں۔
آج اگر ہم اپنے انفرادی اور اجتماعی رویوں میں صرف اس ایک اصول کو اپنا لیں کہ "موقع دینے والے کو کبھی دھوکہ نہ دو، اور دھوکہ دینے والے کو کبھی موقع نہ دو” تو یقیناً ہمارے معاشرے میں اعتماد بحال ہوگا، تعلقات مضبوط ہوں گے، ادارے مستحکم ہوں گے اور ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ کیونکہ قومیں صرف وسائل سے نہیں بلکہ کردار، دیانت اور اعتماد سے مضبوط بنتی ہیں۔





















