لاہور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)پنجاب حکومت نے ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور ٹیکس نظام میں شفافیت لانے کے لیے ٹیکس کٹوتی کا نیا نظام نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت ای پیمنٹ اور کارڈ کے ذریعے کی جانے والی ادائیگیوں پر نمایاں ٹیکس رعایت دی جائے گی۔
پنجاب ریونیو اتھارٹی (پی آر اے) کے مطابق نئے نظام کے تحت ڈیجیٹل ذرائع سے وصول ہونے والا ٹیکس براہِ راست سرکاری خزانے میں منتقل ہوگا، جس کا مقصد ٹیکس وصولی کے عمل کو مزید شفاف، محفوظ اور مؤثر بنانا ہے۔
پی آر اے کے ترجمان نے بتایا کہ بیوٹی پارلرز، ہیئر سلونز، فیشن ڈیزائنرز، کاسمیٹک سرجری، پلاسٹک سرجری، اسکن ٹریٹمنٹ اور لیزر ٹریٹمنٹ مراکز کی خدمات پر ٹیکس کی شرح 5 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
اسی طرح ایونٹ مینجمنٹ، ٹور آپریٹرز، جمنازیم اور لانڈری سروسز پر 8 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔
ترجمان کے مطابق ہوٹل اور ریسٹورنٹ سیکٹر میں کیش ادائیگی کی صورت میں سروسز پر 16 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا، جبکہ کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ یا دیگر ڈیجیٹل ذرائع سے ادائیگی کرنے والے صارفین کے لیے ٹیکس کی شرح صرف 8 فیصد ہوگی۔ اس طرح ڈیجیٹل ادائیگی کرنے والے صارفین کو کیش ادائیگی کے مقابلے میں 50 فیصد ٹیکس رعایت حاصل ہوگی۔
پنجاب ریونیو اتھارٹی کا کہنا ہے کہ عوام کی جانب سے ادا کیے جانے والے ٹیکس ہی ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولیات اور فلاحی پروگراموں کی تکمیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے شہریوں کو چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دیں۔
اتھارٹی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ہر خریداری یا سروس کے بعد لازمی طور پر پکی رسید حاصل کریں تاکہ ٹیکس کی درست ادائیگی یقینی بنائی جا سکے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اگر کوئی فوڈ آپریٹر یا کاروباری ادارہ پکی رسید جاری نہ کرے تو اس کی شکایت پنجاب ریونیو اتھارٹی کو درج کرائی جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق حکومت کا یہ اقدام ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے اور ٹیکس نیٹ کو مزید شفاف بنانے کی کوشش ہے۔ ان کے بقول اگر اس نظام پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا گیا تو ٹیکس چوری میں کمی اور حکومتی محصولات میں اضافے کی توقع کی جا سکتی ہے۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے ڈیجیٹل ادائیگی پر ٹیکس میں رعایت کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا، جبکہ بعض افراد نے مطالبہ کیا کہ اس سہولت کو دیگر شعبوں تک بھی توسیع دی جائے تاکہ کیش لیس معیشت کو مزید فروغ مل سکے۔
ماہرین کی رائے
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی سے مالی شفافیت میں اضافہ، دستاویزی معیشت کا فروغ اور ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری آ سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے کاروباری طبقے اور صارفین دونوں میں آگاہی پیدا کرنا بھی ضروری ہوگا۔
ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جانب پیش رفت جدید معیشت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ اگر ٹیکس رعایت کے ساتھ شفاف نگرانی بھی یقینی بنائی جائے تو یہ اقدام نہ صرف محصولات میں اضافے بلکہ معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
میری رائے میں ڈیجیٹل ادائیگی پر ٹیکس میں رعایت ایک مثبت قدم ہے، کیونکہ اس سے صارفین کو بھی فائدہ ہوگا اور حکومت کو ٹیکس وصولی میں زیادہ شفافیت حاصل ہو سکے گی۔ تاہم اس نظام کی کامیابی مؤثر عملدرآمد، عوامی آگاہی اور کاروباری اداروں کی مکمل پابندی پر منحصر ہوگی۔





















