ججز کی فلاح و بہبود مضبوط نظامِ انصاف کی بنیاد ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

عالمی یومِ عدالتی فلاح و بہبود پر پیغام، چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ ججز کو مضبوط بنانا دراصل نظامِ انصاف کو مضبوط بنانا ہے

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ ججز انتہائی مشکل حالات میں اہم قومی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں، اس لیے ان کی فلاح و بہبود، پیشہ ورانہ ترقی اور ادارہ جاتی معاونت کو یقینی بنانا ایک مضبوط اور مؤثر نظامِ انصاف کے لیے ناگزیر ہے۔

عالمی یومِ عدالتی فلاح و بہبود کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں چیف جسٹس نے کہا کہ یہ دن اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ مضبوط نظامِ انصاف کی بنیاد صرف قوانین اور اداروں پر نہیں بلکہ ججز کی ذہنی، پیشہ ورانہ اور ادارہ جاتی فلاح و بہبود پر بھی قائم ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالتی فلاح و بہبود محض ایک انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ عدالتی آزادی، ادارہ جاتی دیانت داری اور قانون کی حکمرانی پر عوامی اعتماد کی مضبوط بنیاد ہے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ آزاد، غیر جانبدار اور معیاری انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ ججز کو مؤثر ادارہ جاتی معاونت، جدید عدالتی ماحول، پیشہ ورانہ تربیت اور مضبوط انتظامی نظام فراہم کیا جائے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریاں مزید مؤثر انداز میں انجام دے سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی عدلیہ اپنے اصلاحاتی ایجنڈے میں عدالتی فلاح و بہبود کو بنیادی اہمیت دے رہی ہے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل تبدیلی، بہتر عدالتی انفراسٹرکچر، ادارہ جاتی معاونت اور عدالتی تعلیم اس اصلاحاتی پروگرام کے اہم ستون ہیں۔

چیف جسٹس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عدلیہ جدید تقاضوں کے مطابق اصلاحات کا عمل جاری رکھے گی تاکہ انصاف کی فراہمی کا نظام مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنایا جا سکے۔

انہوں نے اپنے پیغام میں ملک بھر کے ججز کی دیانت داری، پیشہ ورانہ صلاحیت، عزم اور خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ "ججز کو مضبوط بنانا درحقیقت نظامِ انصاف کو مضبوط بنانا ہے۔”

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق چیف جسٹس کا پیغام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عدالتی اصلاحات صرف قوانین میں تبدیلی تک محدود نہیں بلکہ ججز کو بہتر کام کرنے کا ماحول، جدید سہولیات اور پیشہ ورانہ معاونت فراہم کرنا بھی انصاف کے مؤثر نظام کے لیے ضروری ہے۔ عدلیہ میں جاری اصلاحات مستقبل میں عوامی اعتماد میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر صارفین نے چیف جسٹس کے پیغام کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک مضبوط اور آزاد عدلیہ ہی قانون کی حکمرانی اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی ضمانت بن سکتی ہے۔ کئی صارفین نے عدالتی اصلاحات کے تسلسل پر بھی زور دیا۔

ماہرین کی رائے

قانونی ماہرین کے مطابق عدالتی آزادی صرف آئینی تحفظات سے نہیں بلکہ ججز کے لیے محفوظ، باوقار اور جدید پیشہ ورانہ ماحول فراہم کرنے سے بھی وابستہ ہے۔ ان کے نزدیک عدالتی انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل نظام اور مسلسل تربیت انصاف کی بروقت فراہمی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ایک مضبوط عدالتی نظام کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے۔ ججز کی فلاح و بہبود، پیشہ ورانہ آزادی اور ادارہ جاتی معاونت کو یقینی بنانا انصاف کی مؤثر فراہمی اور عوامی اعتماد کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔

میری رائے میں چیف جسٹس کا پیغام اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ عدلیہ کی مضبوطی کا انحصار صرف قوانین پر نہیں بلکہ ان افراد پر بھی ہے جو انصاف کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ ججز کے لیے بہتر کام کا ماحول، جدید سہولیات اور مؤثر معاونت انصاف کے نظام کو مزید مضبوط اور مؤثر بنا سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین