اسلام آباد / تہران (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)عرب میڈیا کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے پاکستان کو آگاہ کر دیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم اس حوالے سے ایران یا پاکستان کی جانب سے باضابطہ سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔
العربیہ انگلش کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ ہے، بشرطیکہ یہ مذاکرات 17 جون 2026 کو طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت آگے بڑھائے جائیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کی خواہش ہے کہ مذاکرات کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے۔ ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات، دوسرے مرحلے میں ایران کے منجمد اثاثوں کا مسئلہ اور آخری مرحلے میں جوہری پروگرام پر بات چیت کی جائے۔
ذرائع کے مطابق ایران نے پاکستان کو یہ بھی آگاہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے نئی راہداری قائم کرنے کی کسی بھی تجویز کو مسترد کرتا ہے اور اس حوالے سے اپنے موقف پر قائم ہے۔
یاد رہے کہ 17 جون 2026 کو امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے، جس کے بعد تقریباً 40 برس میں پہلی بار دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوئے تھے۔
ان مذاکرات میں پاکستان اور قطر نے سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی بھی موجود تھے۔
ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے تھے، جبکہ وفد میں وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔ امریکی وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس نے کی تھی۔
بعد ازاں مذاکرات کا دوسرا دور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقد ہوا، جبکہ تیسرا دور اسلام آباد میں ہونا تھا، لیکن اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی بڑھ گئی اور ایک دوسرے پر حملوں کے بعد مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہو گیا۔
بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی حکام نے ایک دوسرے پر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے اور مذاکرات معطل ہونے کا ذمہ دار ایک دوسرے کو ٹھہرایا۔
تاہم حالیہ دنوں میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران پہلے سے زیادہ سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی طرف واپس آنا چاہتا ہے اور امریکا بھی سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف رہا ہے کہ امریکا نے پہلے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فوجی کارروائیاں شروع کیں، اسی وجہ سے مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ وہ سفارت کاری کے ذریعے تنازع کا حل نکالنے کے خواہاں ہیں، تاہم دھمکی یا دباؤ قبول نہیں کریں گے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق اگر العربیہ کی رپورٹ میں کیے گئے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ خطے میں سفارتی پیش رفت کی جانب ایک اہم اشارہ ہو سکتا ہے۔ تاہم اس مرحلے پر اس خبر کو احتیاط سے دیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ مذاکرات کی بحالی یا ان کے ایجنڈے سے متعلق ابھی تک کوئی مشترکہ سرکاری اعلامیہ جاری نہیں ہوا۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر اس خبر پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض صارفین نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی ممکنہ بحالی کو خطے کے امن کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا، جبکہ دیگر نے سرکاری تصدیق آنے تک محتاط رہنے پر زور دیا۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی بحالی مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی، عالمی توانائی منڈیوں اور علاقائی استحکام پر مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ تاہم ان کے نزدیک کسی بھی پیش رفت کا انحصار دونوں ممالک کے عملی اقدامات اور باہمی اعتماد پر ہوگا۔
خطے میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں سفارت کاری ہی مسائل کے پائیدار حل کا مؤثر راستہ ہے۔ تاہم غیر مصدقہ ذرائع پر مبنی رپورٹس کے بجائے متعلقہ حکومتوں کے سرکاری بیانات کو ہی حتمی حیثیت دی جانی چاہیے۔
میری رائے میں اس خبر کا اہم پہلو یہ ہے کہ یہ فی الحال عرب میڈیا اور ذرائع کے دعوؤں پر مبنی ہے۔ جب تک ایران، پاکستان یا امریکا کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہ آئے، اس پیش رفت کو حتمی سفارتی فیصلہ نہیں بلکہ ایک ممکنہ پیش رفت کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔





















