سگریٹ نوشی کے مضر صحت اثرات پر عوامی آگاہی، محققین کی اہم تحقیق سامنے آگئی

دنیا کے 46 ممالک میں 2 لاکھ 40 ہزار سے زائد سگریٹ نوش افراد پر کی گئی تحقیق میں صحت کے خطرات سے متعلق آگاہی کا جائزہ

ویب ڈیسک (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایک نئی عالمی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سگریٹ نوشی کے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں عوامی آگاہی میں اگرچہ کچھ بہتری آئی ہے، تاہم سنگین طبی خطرات سے متعلق معلومات کا خلا اب بھی برقرار ہے۔

دنیا کے 46 ممالک میں 2 لاکھ 40 ہزار سے زائد سگریٹ نوش افراد پر کی جانے والی تحقیق کے مطابق زیادہ تر سگریٹ نوش افراد اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ تمباکو نوشی پھیپھڑوں کے کینسر کا سبب بن سکتی ہے، تاہم دل کی بیماری، ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے سنگین خطرات کے بارے میں آگاہی نسبتاً کم پائی گئی۔

دل اور فالج کے خطرات سے آگاہی کم

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ بہت سے سگریٹ نوش افراد اس حقیقت سے پوری طرح واقف نہیں کہ سگریٹ نوشی صرف خود ان کی صحت کو ہی متاثر نہیں کرتی بلکہ سگریٹ کے دھوئیں سے دوسرے افراد کو بھی دل کی بیماری، ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

محققین کے مطابق تمباکو نوشی کے نقصانات سے متعلق کئی برسوں سے جاری آگاہی مہمات، گرافک وارننگز اور تمباکو پر قابو پانے کی مختلف پالیسیوں کے باوجود عوام میں اس حوالے سے معلومات کا خلا مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکا۔

تحقیق میں اہم تشویش کا اظہار

جرنل بی ایم جے اوپن میں شائع ہونے والی تحقیق کی مرکزی مصنفہ اور یونیورسٹی آف واٹرلو کے انٹرنیشنل ٹوبیکو کنٹرول پالیسی ایویلیوایشن پروجیکٹ سے وابستہ سائنس دان جینیٹ چنگ ہال نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیا۔

ان کے مطابق سگریٹ نوشی اور سیکنڈ ہینڈ اسموک کے نتیجے میں ہونے والے بڑے طبی نقصانات سے متعلق معلومات کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔

ہر سال لاکھوں اموات

ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 20 لاکھ سے زائد اموات تمباکو نوشی سے منسلک قلبی بیماریوں کے باعث ہوتی ہیں، جس سے اس عادت کے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کی سنگینی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

تحقیق میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سگریٹ نوشی کے دل اور خون کی شریانوں پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں عوامی آگاہی بڑھانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق سگریٹ نوشی کے نقصانات کے بارے میں عمومی آگاہی موجود ہونے کے باوجود مخصوص بیماریوں اور بالخصوص قلبی نظام پر اس کے اثرات سے متعلق معلومات کا کم ہونا تشویش کا باعث ہے۔ ان کے مطابق عوامی آگاہی مہمات میں صرف کینسر کے خطرے تک محدود رہنے کے بجائے دل، فالج اور سیکنڈ ہینڈ اسموک کے نقصانات کو بھی نمایاں کرنا ضروری ہے۔

عوامی رائے

عوامی سطح پر سگریٹ نوشی کو صحت کے لیے نقصان دہ سمجھا جاتا ہے، تاہم تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے تمام بڑے طبی خطرات سے متعلق معلومات یکساں طور پر موجود نہیں۔ ماہرین کے مطابق مؤثر آگاہی مہمات کے ذریعے لوگوں کو سگریٹ نوشی کے فوری اور طویل مدتی نقصانات سے مزید بہتر طور پر آگاہ کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کی رائے

ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی کے خلاف پالیسیوں کے ساتھ ساتھ مسلسل اور واضح عوامی آگاہی بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق دل کی بیماری، ہارٹ اٹیک، فالج اور دوسروں کو پہنچنے والے دھوئیں کے نقصانات کو اجاگر کرنے سے تمباکو نوشی کے خطرات کے بارے میں لوگوں کی سمجھ مزید بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

تمباکو نوشی کے نقصانات سے متعلق آگاہی صرف فرد تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس کے اثرات خاندان اور معاشرے تک پہنچتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوام کو سگریٹ نوشی کے تمام بڑے طبی خطرات سے مسلسل آگاہ کیا جائے تاکہ صحت مند معاشرے کے قیام میں مدد مل سکے۔

میری رائے میں تحقیق کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اگرچہ سگریٹ نوشی اور پھیپھڑوں کے کینسر کے تعلق سے زیادہ تر افراد آگاہ ہیں، لیکن دل کی بیماری اور فالج جیسے خطرات کے بارے میں آگاہی اب بھی کم ہے۔ اس خلا کو دور کرنے کے لیے سادہ، واضح اور مسلسل عوامی آگاہی مہمات کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین