ویب ڈیسک (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)انڈونیشیا کے ساحلی علاقے کے قریب 7.7 شدت کے شدید زلزلے کے بعد مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد 20 ہوگئی، جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
خبر رساں ادارے کے مطابق زلزلہ ہفتے کی صبح مقامی وقت کے مطابق 4 بج کر 58 منٹ پر آیا، جس کی گہرائی تقریباً 35 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کے بعد مختلف علاقوں میں متعدد آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
سونامی کی وارننگ جاری، تین گھنٹے بعد واپس لے لی گئی
زلزلے کے بعد انڈونیشیا کی جیو فزکس ایجنسی نے ابتدائی طور پر سونامی کی وارننگ جاری کی، تاہم تقریباً تین گھنٹے بعد اسے واپس لے لیا گیا۔
حکام کی جانب سے شہریوں کو صورتحال پر نظر رکھنے اور متعلقہ اداروں کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی، جبکہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔
آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری
شدید زلزلے کے بعد مختلف علاقوں میں آفٹر شاکس محسوس کیے گئے، جس کے باعث متاثرہ علاقوں کے شہری مزید خوفزدہ ہوگئے۔
امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں جبکہ حکام کی جانب سے جانی و مالی نقصان کی مزید تفصیلات بھی جمع کی جا رہی ہیں۔
آسٹریلیا کے لیے سونامی کا خطرہ نہیں
آسٹریلیا کے سونامی وارننگ سینٹر نے کہا ہے کہ انڈونیشیا میں آنے والے زلزلے کے باعث آسٹریلوی سرزمین، جزائر یا دیگر متعلقہ علاقوں کے لیے سونامی کا کوئی خطرہ نہیں۔
اسپین کے غرناطہ میں بھی 5 شدت کا زلزلہ
دوسری جانب اسپین کے جنوبی شہر غرناطہ میں بھی ہفتے کی علی الصبح 5 شدت کا زلزلہ آیا، جس کے باعث بعض مکانات اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
رپورٹس کے مطابق زلزلے کے جھٹکوں کے بعد شہری گھروں سے باہر نکل آئے، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق انڈونیشیا میں آنے والا شدید زلزلہ قدرتی آفات کے حوالے سے خطے کو درپیش خطرات کی ایک اور مثال ہے۔ ایسے واقعات میں ابتدائی چند گھنٹے انتہائی اہم ہوتے ہیں، کیونکہ آفٹر شاکس مزید نقصانات کا باعث بن سکتے ہیں۔
ان کے مطابق سونامی کی وارننگ کا بروقت اجرا اور بعد ازاں صورتحال کا جائزہ لے کر اسے واپس لینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید وارننگ سسٹم قدرتی آفات کے دوران انسانی جانوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
عوامی رائے
زلزلے کے بعد متاثرہ علاقوں میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوگئی جبکہ شہریوں کی بڑی تعداد محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہوئی۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ زلزلہ متاثرہ علاقوں میں فوری امداد، محفوظ رہائش اور بنیادی سہولیات کی بحالی پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق شدید زلزلے کے بعد آنے والے آفٹر شاکس مزید نقصان کا سبب بن سکتے ہیں، اس لیے متاثرہ عمارتوں میں واپس جانے سے قبل ان کی مکمل جانچ ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ساحلی علاقوں میں شدید زلزلے کے بعد سونامی کے ممکنہ خطرے کو بھی فوری طور پر جانچنا ضروری ہوتا ہے تاکہ شہریوں کو بروقت محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاسکے۔
دنیا کے مختلف زلزلہ خیز علاقوں میں قدرتی آفات سے مکمل طور پر بچنا ممکن نہیں، تاہم مضبوط تعمیرات، جدید وارننگ سسٹم اور مؤثر ریسکیو نظام کے ذریعے جانی نقصان کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
ایسے واقعات میں حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پہلے سے مکمل تیاری رکھیں۔
میری رائے میں انڈونیشیا میں آنے والا شدید زلزلہ ایک بار پھر یہ واضح کرتا ہے کہ قدرتی آفات کسی بھی وقت بڑے پیمانے پر انسانی اور مالی نقصان کا باعث بن سکتی ہیں۔ اس لیے زلزلہ متاثرہ علاقوں میں فوری امداد کے ساتھ ساتھ مستقبل کے لیے مضبوط انفراسٹرکچر اور مؤثر ہنگامی نظام کی تشکیل انتہائی ضروری ہے۔





















