رپورٹس کے مطابق ایران کی طاقتور فوجی تنظیم Islamic Revolutionary Guard Corps نے کہا ہے کہ اس مرحلے میں اسرائیل کے اہم سیاسی اور سیکیورٹی مراکز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اس حملے میں ڈرون اور بیلسٹک میزائل استعمال کیے گئے اور ان کا ہدف اسرائیلی قیادت کے مقامات اور حساس تنصیبات تھے۔
تل ابیب سمیت اہم علاقوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
بعض میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ میزائل اور ڈرون حملے اسرائیل کے اہم شہر Tel Aviv اور دیگر حساس علاقوں کی طرف کیے گئے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق اس نئی لہر میں اسرائیلی قیادت کے ممکنہ مقامات اور سیکیورٹی تنصیبات کو ہدف بنایا گیا تاکہ اسرائیل کو اس کے حالیہ حملوں کا جواب دیا جا سکے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اسرائیل کی جانب سے ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں۔
اسرائیل کا ردعمل
دوسری جانب اسرائیلی حکام کی جانب سے ان دعوؤں کی مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔
اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک کا فضائی دفاعی نظام ہائی الرٹ پر ہے اور کسی بھی ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اسرائیل کے جدید دفاعی نظام Iron Dome کو بھی متحرک رکھا گیا ہے تاکہ میزائل حملوں کو فضا میں ہی تباہ کیا جا سکے۔
دفاعی ماہرین کی رائے
دفاعی ماہرین کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے کو ایک بڑے فوجی تنازع کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ تنازع اب ایک محدود جھڑپ کے بجائے وسیع علاقائی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
ان کے مطابق اسرائیل کے دفاعی نظام جدید ہونے کے باوجود مسلسل حملوں سے دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
عالمی ردعمل
بین الاقوامی سفارتی حلقوں نے ایران اور اسرائیل دونوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔
کئی ممالک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہ تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ، عالمی سیاست اور توانائی کی منڈیوں پر پڑ سکتے ہیں۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا اور عالمی عوامی حلقوں میں اس صورتحال پر شدید بحث جاری ہے۔
کچھ افراد کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن کے لیے خطرناک ہے جبکہ کچھ حلقے اسے خطے میں طاقت کے توازن کی نئی شکل قرار دے رہے ہیں۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ حملوں اور جوابی کارروائیوں نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک انتہائی حساس مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔
ان کے بقول اگر دونوں ممالک کے درمیان یہ حملے اسی رفتار سے جاری رہے تو یہ تنازع ایک بڑے علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے جس میں دیگر طاقتیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔
غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ آنے والے دن اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا یہ کشیدگی محدود رہتی ہے یا پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔





















