لاہور نے آج ایک بار پھر ملک کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلی پوزیشن حاصل کرلی، جبکہ شہر میں بارش کے امکانات بھی معدوم ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
شہر کے مختلف علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس 800 سے 290 کے درمیان ریکارڈ کیا گیا، جبکہ اوسطاً 290 کی سطح پر برقرار ہے۔ ماحولیاتی آلودگی کی موجودہ صورتحال کے باوجود حکومت پنجاب نے تعلیمی ادارے، تفریحی مقامات اور تعمیراتی کام کے لیے مکمل اجازت دے دی ہے۔
سرکاری و نجی دفاتر کو 100 فیصد عملے کے ساتھ کام کرنے کی اجازت ہے جبکہ زگ زیگ ٹیکنالوجی پر مشتمل بھٹوں کو بھی فعال کردیا گیا ہے۔ ہیوی ٹریفک کے داخلے کے حوالے سے ہفتہ وار پابندیاں نافذ رہیں گی، پیر سے جمعرات تک اجازت دی گئی ہے جبکہ جمعہ سے اتوار تک یہ پابندی برقرار رہے گی۔
بازار، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز شام 8 بجے تک کھل سکتے ہیں، جبکہ ریسٹورینٹس میں ان ڈور اور آؤٹ ڈور ڈائننگ رات 10 بجے تک محدود رہے گی۔ تاہم، باربی کیو کے لیے ہوڈ سسٹم کی تنصیب کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔انتظامیہ کے مطابق اسموگ ایس او پیز کی خلاف ورزیوں کے خلاف سخت کارروائیاں جاری ہیں۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں بادل تو موجود ہیں، مگر برسنے کے امکانات نہایت کم ہیں۔ آئندہ 24 گھنٹوں میں موسم خشک اور سرد رہنے کا امکان ہے۔آج لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 10 ڈگری سینٹی گریڈ اور زیادہ سے زیادہ 25 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی توقع ہے





















