اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم آئینی اور قانونی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نیب کیسز میں اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کا اختیار سپریم کورٹ کے بجائے وفاقی آئینی عدالت کو حاصل ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو نیب مقدمات میں سماعت کا اختیار حاصل نہیں، لہٰذا تمام مرکزی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت میں سنی جائیں گی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آرٹیکل 175 اے اور متعلقہ آئینی دفعات کے تحت نیب سے متعلق تمام زیر التوا مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل تصور کیے جائیں گے۔
بعد ازاں عدالت نے 30 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ بھی جاری کیا، جس میں واضح کیا گیا کہ نیب ترمیم 2026 کے بعد نیب مقدمات سے متعلق تمام فوجداری اپیلیں، زیر التوا درخواستیں اور ضمانت کے معاملات سننے کا قانونی اختیار صرف وفاقی آئینی عدالت کے پاس ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ قانون میں ترمیم کے بعد اختیارِ سماعت واضح طور پر وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو چکا ہے، اس لیے سپریم کورٹ میں ایسے مقدمات کی سماعت قانونی طور پر ممکن نہیں۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ کسی مقدمے کا ایک حصہ سپریم کورٹ اور دوسرا وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جا سکتا، کیونکہ اس سے قانونی فورمز میں تضاد پیدا ہوگا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ کسی درخواست گزار کی خواہش یا رضامندی کی بنیاد پر قانونی فورم تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی فورم شاپنگ کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ اگر ماضی میں کسی مقدمے میں اختیارِ سماعت کا اعتراض نہیں اٹھایا گیا تو اس سے عدالت کے قانونی اختیار میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، کیونکہ اختیارِ سماعت کا تعین قانون کرتا ہے، نہ کہ فریقین کی رضامندی۔
یاد رہے کہ 5 مارچ 2026 کو نیب قانون میں ترمیم کے ذریعے شق 32 اے شامل کی گئی تھی، جس کے تحت نیب مقدمات کی اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت کے سپرد کی گئی تھیں۔
یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ایک زیرِ سماعت نیب کیس کے دوران اختیارِ سماعت کا سوال اٹھنے پر سامنے آیا، جس پر جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے مؤقف اختیار کیا کہ ضمانت کی درخواست سپریم کورٹ میں ہی سنی جا سکتی ہے، جبکہ اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے دلائل دیے کہ نیب سے متعلق تمام مرکزی اپیلیں اور ضمانت کے معاملات وفاقی آئینی عدالت میں ہی چلنے چاہییں۔ نیب کے وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے مؤقف کی حمایت کی۔
بینچ نے 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو اب تفصیلی وجوہات کے ساتھ جاری کر دیا گیا ہے۔
اس فیصلے کے بعد بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی ضمانت کی درخواست بھی وفاقی آئینی عدالت میں سنی جائے گی۔ اسی طرح 190 ملین پاؤنڈ کیس میں ان کی اہلیہ کی ضمانت سے متعلق درخواست پر رجسٹرار سپریم کورٹ پہلے ہی اعتراض عائد کرتے ہوئے وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت دے چکے تھے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ نیب مقدمات کی آئندہ عدالتی کارروائی کے لیے ایک اہم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ فیصلے سے یہ اصول واضح ہو گیا ہے کہ نیب قانون میں ہونے والی ترمیم کے بعد متعلقہ مقدمات کا فورم تبدیل ہو چکا ہے اور تمام فریقین کو اسی قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ فیصلہ مستقبل میں فورم شاپنگ کے امکانات کو بھی محدود کر سکتا ہے۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض صارفین نے اسے قانونی نظام میں وضاحت لانے والا فیصلہ قرار دیا، جبکہ دیگر نے اس کے ممکنہ اثرات خصوصاً اہم سیاسی مقدمات پر بحث کی۔
ماہرین کی رائے
آئینی و قانونی ماہرین کے مطابق فیصلے کا بنیادی مقصد اختیارِ سماعت سے متعلق ابہام ختم کرنا اور قانون میں کی گئی ترمیم پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانا ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے کے بعد نیب مقدمات کے لیے قانونی فورم واضح ہو گیا ہے۔
عدالتی نظام میں اختیارِ سماعت کا واضح تعین انصاف کی بروقت فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے۔ ایسے فیصلے قانونی طریقہ کار میں یکسانیت پیدا کرنے اور مختلف عدالتوں کے دائرۂ اختیار کو واضح کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
میری رائے میں یہ فیصلہ بنیادی طور پر قانونی اختیارِ سماعت کی تشریح سے متعلق ہے، جس کے عملی اثرات مستقبل کے تمام نیب مقدمات پر مرتب ہوں گے۔ اس لیے اس فیصلے کی اہمیت صرف ایک مقدمے تک محدود نہیں بلکہ پورے احتسابی نظام کے عدالتی طریقہ کار کے لیے بھی نمایاں ہے۔





















