مال روڈ واقعہ کو نظرانداز نہ کیا جائے، 27 ستمبر کو بھی حالات بگڑ سکتے ہیں، طلال چوہدری

پاکستان کو سیاسی عدم استحکام کا شکار نہیں کرنے دیں گے، حملہ آور کے ہاتھ کاٹے جائیں گے، وزیر مملکت داخلہ

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ راولپنڈی کے مال روڈ پر پیش آنے والا واقعہ اس بات کا اشارہ ہے کہ 27 ستمبر کو بھی ایسا ہی واقعہ پیش آ سکتا ہے، تاہم پاکستان کو سیاسی عدم استحکام کا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ اگر پاکستان میں ایسا کوئی حملہ ہوا تو حملہ آور کے ہاتھ کاٹے جائیں گے۔

وزیر مملکت نے کہا کہ نفرت اور انتشار کی وجہ سے 9 مئی کا واقعہ پیش آیا اور اسی سوچ کے نتیجے میں مال روڈ کا واقعہ بھی سامنے آیا۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی اپنے بیانات اور تقریروں میں مسلسل نفرت اور انتشار کو فروغ دیتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سے کہا گیا ہے کہ وہ نفرت اور انتشار کی سیاست سے گریز کرے اور نوجوانوں کے ذہنوں میں نفرت نہ بھرے۔

سوشل میڈیا پوسٹس پر بھی تنقید

طلال چوہدری نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی سے وابستہ سوشل میڈیا پوسٹس میں شہدا کی تضحیک کی جاتی ہے۔ ان کے مطابق سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن شہدا اور قومی اداروں کے حوالے سے ایسے رویوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہو سکتی کہ مال روڈ پر فائرنگ کرنے والے کارکن سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا، کیونکہ دوسری جانب پارٹی کی جانب سے اس شخص کا دفاع بھی کیا گیا۔

وزیر مملکت نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ شخص خیبر پختونخوا ہاؤس میں رہتا رہا اور پارٹی قیادت سے ملاقاتیں بھی کرتا رہا۔

مال روڈ واقعے کی تحقیقات جاری

طلال چوہدری نے کہا کہ پی ٹی آئی آہستہ آہستہ خود کو ہی مائنس کر رہی ہے۔ ان کے مطابق راولپنڈی مال روڈ پر پیش آنے والے واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات جاری ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد نتائج سامنے لائے جائیں گے۔

مال روڈ پر کیا ہوا تھا؟

یاد رہے کہ 11 اگست 2026 کو دن 11 بج کر 15 منٹ پر راولپنڈی کے مال روڈ پر ایک مسلح شخص نے مبینہ طور پر اپنی پستول سے سیکیورٹی فورسز کی پٹرولنگ ٹیم پر فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار زخمی ہوگیا تھا۔

فورسز کی جوابی فائرنگ سے حملہ آور موقع پر ہلاک ہوگیا۔ اس کی شناخت محمد حسین ولد محمد باذ کے نام سے ہوئی۔

بعد ازاں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ہلاک ہونے والا شخص پاکستان تحریک انصاف کا کارکن تھا اور اس کی پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے مذکورہ شخص کے اقدام کو اس کا انفرادی فعل قرار دیتے ہوئے واقعے سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق مال روڈ واقعے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کی جانب سے 27 ستمبر کے حوالے سے خدشات کا اظہار اور پی ٹی آئی کی جانب سے واقعے سے لاتعلقی، دونوں معاملات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔

عوامی رائے

مال روڈ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ بعض حلقوں نے سیکیورٹی فورسز پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا، جبکہ بعض صارفین نے کسی سیاسی جماعت کو براہِ راست ذمہ دار ٹھہرانے سے پہلے تحقیقات مکمل کرنے پر زور دیا۔

ماہرین کی رائے

سیاسی اور سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ایسے واقعات میں حقائق کا تعین شفاف تحقیقات کے ذریعے ہونا ضروری ہے۔ ان کے مطابق سیاسی کشیدگی کو پرتشدد واقعات سے جوڑنے کے بجائے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شواہد کی بنیاد پر ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

ملک میں سیاسی اختلاف جمہوری عمل کا حصہ ہے، تاہم سیاسی اختلاف کو تشدد یا انتشار میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو قانون ہاتھ میں لینے سے روکیں اور ریاستی اداروں پر حملوں کی واضح الفاظ میں مذمت کریں۔

میری رائے میں مال روڈ واقعے کے بعد 27 ستمبر کے حوالے سے سامنے آنے والے خدشات کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے، لیکن کسی بھی سیاسی جماعت یا فرد کے خلاف حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے تحقیقات مکمل ہونا ضروری ہے۔ شفاف تحقیقات اور قانون کے مطابق کارروائی ہی سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کا مؤثر راستہ ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین