وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے وفاق کی جانب سے گورنر راج لگانے کے امکان پر دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس اقدام سے خوفزدہ نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا، "وفاق میں ہمت ہے تو گورنر راج لگا کر دکھائے۔ ہم گورنر راج سے ڈرنے والے نہیں، یہ کرسی نہیں بلکہ عزت اور خودداری کی جنگ ہے۔”
خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں جارحانہ خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ وہ اپنے حق کے لیے پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین انہیں بزدلی کا طعنہ دیتے ہیں، لیکن اگر حالات مزید خراب کیے گئے تو پھر ان کا جواب بھی سخت ہوگا۔
اپنے خطاب میں گنڈاپور نے وضع انداز میں کہا کہ میرے کارکن کوئی مسلح دہشت گرد نہیں جن پر گولیاں چلائی جائیں اور وہ چپ چاپ کھڑے رہیں۔ اگر ہم نے بھی اسلحہ اٹھا لیا تو پھر بتائیں گے کہ کون بھاگتا ہے اور کون بھگاتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ دفعہ 245 نافذ کرکے فورسز کے ذریعے عوام پر گولیاں چلائی گئیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر یہی کچھ تمہارے بچوں کے ساتھ ہوتا تو تم کیا محسوس کرتے؟ انہوں نے کھلے الفاظ میں کہا، "میری دعا ہے کہ جنہوں نے ظلم کیا، انہیں ایسی تکلیف اور دکھ ملے کہ تاریخ میں مثال بن جائے۔”
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا، "اگر گولی کا جواب گولی سے دیا گیا تو پھر حالات دیکھ لینا۔ اسلحہ، بارود اور وسائل ہمارے پاس بھی ہیں۔ لیکن ہم امن کے حامی ہیں اور اس روایت کو بدلنا چاہتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ گورنر راج کی دھمکیوں سے ہمیں دبایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے اسمبلی کے فلور پر وفاق کو چیلنج کرتے ہوئے کہا، "لگاؤ گورنر راج! اگر تم میں جرات ہے تو لگا کر دکھاؤ۔ اگر تم نے ہمارے مینڈیٹ کو چوری کیا، ہمارے لیڈر کو جیل میں رکھا اور ہمیں پرامن احتجاج سے بھی روکا تو پھر ہم بھی وہی کریں گے جو تم چاہتے ہو۔”
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیراعظم کے مشیر برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسمبلی میں قرارداد نہ آئی تو وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر گورنر راج نافذ کر سکتے ہیں، اور یہ معاملہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش ہوگا۔
خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے بھی حال ہی میں گورنر راج کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر حالات قابو سے باہر ہوئے تو آئینی اقدامات اٹھانے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوگی۔
یہ بیان تحریک انصاف کی حالیہ احتجاجی تحریک کے دوران سامنے آیا ہے، جہاں اسلام آباد میں کارکنان کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ملکی استحکام کے خلاف سازش کی گئی اور ذمہ داروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔





















