ممبئی: تربوز کھانے کے بعد خاندان کی ہلاکت، فرانزک رپورٹ نے چونکا دیا

ابتدائی طور پر فوڈ پوائزننگ سمجھے جانے والے واقعے کی اصل وجہ چوہے مار زہر نکلی

(ویب ڈیسک: خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)بھارت کے شہر Mumbai میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی پراسرار ہلاکت کے معاملے میں حیران کن انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں ابتدائی طور پر فوڈ پوائزننگ سمجھے جانے والے واقعے کی اصل وجہ چوہے مار زہر نکلی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 45 سالہ عبداللہ عبدالقادر، ان کی اہلیہ نسرین اور دو بیٹیوں نے رات کے کھانے میں بریانی کھانے کے بعد تربوز کھایا، جس کے چند گھنٹوں بعد ان کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی۔ متاثرہ افراد کو شدید قے اور طبی پیچیدگیوں کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم چاروں جانبر نہ ہو سکے۔

ابتدائی تحقیقات میں واقعے کو فوڈ پوائزننگ قرار دیا جا رہا تھا، لیکن بعد میں کی گئی فرانزک جانچ میں چونکا دینے والے شواہد سامنے آئے۔ رپورٹ کے مطابق لاشوں اور تربوز کے نمونوں میں زنک فاسفائٹ نامی زہریلا کیمیکل پایا گیا، جو عام طور پر چوہے مار ادویات میں استعمال ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پوسٹ مارٹم کے دوران متاثرہ افراد کے بعض اندرونی اعضا میں سبز رنگت دیکھی گئی، جو زہر خورانی کی ممکنہ علامت سمجھی جاتی ہے، جس کے بعد تحقیقات کا رخ مکمل طور پر تبدیل ہو گیا۔

تحقیقات کرنے والے حکام اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا زہریلا مادہ حادثاتی طور پر تربوز میں شامل ہوا یا کسی نے دانستہ طور پر اسے ملایا، جبکہ پولیس اور فرانزک ٹیمیں مزید شواہد اکٹھے کر رہی ہیں۔

واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور شہری خوراک کی حفاظت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، جبکہ حکام نے عوام سے احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خوراک سے متعلق کسی بھی غیر معمولی صورتحال کو فوری طور پر سنجیدگی سے لینا ضروری ہے، کیونکہ بعض اوقات بظاہر عام لگنے والے واقعات کے پیچھے سنگین وجوہات چھپی ہو سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین