فیشن شو کے دوران ماڈلز نے ایسے ہیلز نما سینڈلز پہن کر ریمپ پر واک کی جن میں بظاہر جوتے کا تلوہ ہی موجود نہیں تھا۔ سینڈلز میں صرف ٹخنے کے گرد ایک باریک پٹی دکھائی دیتی تھی جبکہ پاؤں کا نچلا حصہ مکمل طور پر نمایاں تھا۔
سوشل میڈیا پر ان سینڈلز کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوتے ہی صارفین کی بڑی تعداد حیران رہ گئی اور کئی افراد نے مذاقاً کہا کہ “جوتا غائب ہوگیا مگر قیمت باقی رہ گئی۔”
رپورٹس کے مطابق ان غیر معمولی سینڈلز کی قیمت تقریباً 1500 امریکی ڈالر یعنی پاکستانی کرنسی میں لگ بھگ 4 لاکھ 18 ہزار روپے رکھی گئی ہے، جس نے لوگوں کو مزید حیران کر دیا۔
کچھ صارفین نے اس ڈیزائن کو ناقابلِ استعمال اور غیر ضروری قرار دیا جبکہ دیگر نے اسے جدید فیشن کی دنیا میں ایک جرات مندانہ اور تخلیقی تجربہ کہا۔
فیشن ماہرین کے مطابق یہ ڈیزائن روایتی جوتوں کے تصور کو چیلنج کرتا ہے اور اسے ایک علامتی اظہار میں بدل دیتا ہے۔ ان کے مطابق جدید فیشن صرف لباس یا جوتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ ایک سوچ، احساس اور آرٹ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شینیل کا یہ منفرد تجربہ دراصل آزادی، سادگی اور منفرد طرزِ زندگی کی نمائندگی کرتا ہے۔ بعض ناقدین کے مطابق یہ منظر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی شخص ساحل سمندر پر ننگے پاؤں چل رہا ہو مگر فیشن کا تاثر پھر بھی برقرار ہو۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق جدید فیشن انڈسٹری اب صرف پہننے کے قابل لباس بنانے تک محدود نہیں رہی بلکہ اب برانڈز توجہ حاصل کرنے، سوشل میڈیا پر بحث چھیڑنے اور اپنی شناخت کو نمایاں کرنے کیلئے غیر معمولی تجربات کر رہے ہیں۔
غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ شینیل کے یہ سینڈلز عملی استعمال سے زیادہ ایک “کانسیپٹ آرٹ” معلوم ہوتے ہیں، جن کا مقصد صارفین کو حیران کرنا اور فیشن کی نئی جہت متعارف کرانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہنگے ترین اور عجیب ڈیزائن اکثر اسی لیے متعارف کرائے جاتے ہیں تاکہ لوگ ان پر گفتگو کریں، تصاویر وائرل ہوں اور برانڈ عالمی توجہ حاصل کر سکے۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر صارفین نے اس ڈیزائن پر دلچسپ تبصرے کیے۔ ایک صارف نے لکھا “چار لاکھ کے جوتے میں جوتا ہی نہیں!” جبکہ دوسرے نے کہا “یہ فیشن ہے یا مذاق؟”
کئی فیشن شائقین نے اس ڈیزائن کو “فیوچر فیشن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڑے برانڈز ہمیشہ روایتی سوچ توڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔
تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟
فیشن تجزیہ نگاروں کے مطابق دنیا بھر کے لگژری برانڈز اب ایسے تجرباتی ڈیزائن متعارف کرا رہے ہیں جن کا مقصد روزمرہ استعمال کے بجائے آرٹ، اظہار اور سوشل میڈیا انگیجمنٹ حاصل کرنا ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شینیل کے یہ سینڈلز بھی اسی رجحان کی نئی مثال ہیں جہاں ایک عجیب مگر منفرد تصور پوری دنیا کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا۔
اگرچہ عام زندگی میں ایسے جوتے پہننا مشکل دکھائی دیتا ہے، لیکن فیشن کی دنیا میں بعض اوقات مقصد صرف ایک نئی بحث شروع کرنا اور لوگوں کو حیران کرنا ہوتا ہے — اور اس لحاظ سے دیکھا جائے تو شینیل اپنے اس تجربے میں کامیاب نظر آتا ہے۔





















