حکومت کا انوکھا منصوبہ، تیسرے اور چوتھے بچے کی پیدائش پر والدین کو نقد انعام دینے کا اعلان

اس پالیسی کا مقصد خاندانوں کو زیادہ بچوں کی جانب راغب کرنا اور مستقبل کے آبادیاتی بحران سے بچاؤ ہے،وزیر صحت

حیدرآباد دکن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)بھارت کی ریاست Andhra Pradesh کی حکومت نے گرتی ہوئی شرحِ پیدائش پر قابو پانے کیلئے ایک غیر معمولی منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے تیسرے اور چوتھے بچے کی پیدائش پر والدین کو نقد انعام دینے کا فیصلہ کر لیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ N. Chandrababu Naidu نے ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں آبادی کی کم ہوتی شرح مستقبل میں سنگین سماجی اور معاشی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

وزیراعلیٰ کے مطابق حکومت تیسرے بچے کی پیدائش پر 30 ہزار بھارتی روپے جبکہ چوتھے بچے کی ولادت پر 40 ہزار روپے بطور انعام فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے کو بڑھتی عمر کی آبادی اور کم شرحِ پیدائش کے خطرات کو سنجیدگی سے سمجھنا ہوگا، کیونکہ مستقبل میں نوجوان افرادی قوت کی کمی معاشی نظام پر دباؤ بڑھا سکتی ہے۔

چندرابابو نائیڈو نے بتایا کہ حکومت آئندہ ایک ماہ میں اس پالیسی کی مکمل تفصیلات جاری کرے گی تاکہ عوام کو منصوبے کے تمام پہلوؤں سے آگاہ کیا جا سکے۔

رپورٹس کے مطابق اس سے قبل حکومت دوسرے بچے کی پیدائش پر بھی مالی معاونت دینے کی تجویز پر غور کر رہی تھی، تاہم بعد میں اس اسکیم کو تیسرے اور چوتھے بچوں تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ریاستی وزیر صحت ستیا کمار یادو کے مطابق اس پالیسی کا مقصد خاندانوں کو زیادہ بچوں کی جانب راغب کرنا اور مستقبل کے آبادیاتی بحران سے بچاؤ ہے۔

وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں اس بات پر بھی زور دیا کہ بہتر آمدنی، شہری طرزِ زندگی اور بدلتے سماجی رجحانات کے باعث کئی جوڑے صرف ایک بچے پر اکتفا کر رہے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فی خاتون شرحِ پیدائش 2.1 سے کم رہی تو مستقبل میں معیشت، لیبر مارکیٹ اور سماجی ڈھانچے کو شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق آندھرا پردیش حکومت کا یہ اقدام بھارت میں آبادی سے متعلق بدلتے رجحانات کی واضح عکاسی کرتا ہے۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی ممالک اس وقت کم شرحِ پیدائش کے بحران کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں حکومتیں نوجوان آبادی برقرار رکھنے کیلئے مختلف ترغیبی اسکیمیں متعارف کرا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت جیسے آبادی والے ملک میں کسی ریاست کی جانب سے زیادہ بچوں کی حوصلہ افزائی ایک غیر معمولی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق مستقبل میں یہ پالیسی دیگر بھارتی ریاستوں کیلئے بھی مثال بن سکتی ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں آبادی کی شرح تیزی سے کم ہو رہی ہے۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر اس اعلان کے بعد ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔

کئی صارفین نے حکومت کے فیصلے کو مستقبل کی منصوبہ بندی قرار دیتے ہوئے سراہا جبکہ بعض افراد نے سوال اٹھایا کہ صرف مالی انعام سے آبادی کے رجحانات تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔

بعض صارفین نے مہنگائی، تعلیم اور صحت کے اخراجات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زیادہ بچوں کی پرورش اب پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہو چکی ہے۔

تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟

معاشی ماہرین کے مطابق کم شرحِ پیدائش مستقبل میں لیبر فورس اور معاشی سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی ترقی یافتہ ممالک پہلے ہی اس بحران سے نمٹنے کیلئے بچوں کی پیدائش پر مراعات اور سبسڈیز دے رہے ہیں۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق آندھرا پردیش کی یہ پالیسی بھارت میں خاندانی منصوبہ بندی اور آبادی کے مستقبل پر نئی بحث کو جنم دے سکتی ہے۔

کیا حکومتوں کی جانب سے مالی انعامات آبادی کے رجحانات واقعی تبدیل کر سکتے ہیں؟

متعلقہ خبریں

مقبول ترین