تہران / واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)Iran نے امریکا کی ممکنہ فوجی کارروائیوں کی دھمکیوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس ایسے جدید اور خفیہ ہتھیار موجود ہیں جو اب تک میدانِ جنگ میں استعمال نہیں کیے گئے۔
روسی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک ایرانی عسکری ذریعے نے کہا کہ ایران نے مقامی سطح پر جدید دفاعی اور حملہ آور ہتھیار تیار کیے ہیں جن کا ابھی تک عملی مظاہرہ یا استعمال نہیں کیا گیا۔
ایرانی ذریعے کے مطابق اگر امریکا نے دوبارہ حملہ کیا تو ایران اس بار تحمل کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران ہر قسم کی ممکنہ عسکری کشیدگی کیلئے مکمل طور پر تیار ہے اور دفاعی صلاحیت کے حوالے سے ملک کو کسی کمی کا سامنا نہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر Donald Trump حالیہ دنوں میں ایران کو دوبارہ فوجی کارروائی کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو واشنگٹن سخت اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔
دوسری جانب مغربی ممالک ایران کے میزائل اور عسکری پروگرام پر مسلسل تشویش ظاہر کرتے رہے ہیں جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ اس کا دفاعی پروگرام صرف ملکی سلامتی اور دفاع کیلئے ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی بحرانی صورتحال پیدا کر سکتی ہے، خصوصاً Strait of Hormuz اور خلیجی خطے کی سلامتی کے حوالے سے عالمی خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ بیانات کی جنگ خطے میں بڑھتی ہوئی بے یقینی کی علامت ہے۔
غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے “خفیہ ہتھیاروں” کے دعوے دراصل نفسیاتی دباؤ اور دفاعی طاقت کے اظہار کا حصہ بھی ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خلیجی خطے میں کسی بھی نئی عسکری کشیدگی کے اثرات صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال دنیا کیلئے خصوصی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
کئی صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو پوری دنیا اس کے اثرات محسوس کرے گی۔
بعض افراد نے سفارت کاری اور مذاکرات کو مسئلے کا واحد حل قرار دیا جبکہ کچھ صارفین نے طاقت کے مظاہرے کو خطرناک قرار دیا۔
تجزیہ نگار کیا کہتے ہیں؟
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست تصادم پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں خلیجی ممالک بھی کسی بڑی جنگ سے بچنے کیلئے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق دونوں ممالک کے سخت بیانات مستقبل میں مذاکرات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔





















