لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین) تحریک منہاج القرآن اور نظامت ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ڈویلپمنٹ (EPD) کے زیر اہتمام منعقد کیا گیا 10 روزہ ’’ڈپلومہ اِن قرآن سٹڈیز‘‘ پروگرام کامیابی کے ساتھ مکمل ہوگیا۔ اختتامی تقریب میں 600 سے زائد مرد و خواتین شرکاء نے شرکت کی، جبکہ کورس مکمل کرنے والوں میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔
اس تربیتی پروگرام کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو قرآن مجید کے پیغام، فہمِ قرآن اور علوم القرآن سے آگاہ کرنا اور انہیں قرآنی تعلیمات کو اپنی روزمرہ زندگی میں اپنانے کی ترغیب دینا تھا۔ دس روزہ کورس کے دوران شرکاء کو ترجمۂ قرآن، قرآن فہمی، عربی زبان اور علوم القرآن کے مختلف پہلوؤں پر علمی اور فکری رہنمائی فراہم کی گئی۔
اختتامی تقریب میں نائب ناظمِ اعلیٰ تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر محمد رفیق نجم نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر اساتذہ، طلبہ، مذہبی رہنماؤں اور سماجی شخصیات کی بڑی تعداد بھی موجود تھی۔
اپنے خطاب میں ڈاکٹر محمد رفیق نجم نے کہا کہ تحریک منہاج القرآن نوجوان نسل کو قرآن کریم کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرنے کے مشن پر مسلسل کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن مجید صرف تلاوت کے لیے نہیں بلکہ اس کے مفاہیم کو سمجھنا، اس کی تعلیمات کو اختیار کرنا اور عملی زندگی میں نافذ کرنا ہر مسلمان کی اہم ذمہ داری ہے۔
نظامت ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ڈویلپمنٹ کے ڈائریکٹر حافظ سعید رضا بغدادی نے پروگرام کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کورس میں شرکاء کو تلاوتِ قرآن، ترجمہ، بنیادی تفاسیر اور عملی زندگی میں قرآنی تعلیمات کے اطلاق کے حوالے سے جامع تربیت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی رہنمائی میں EPD ملک بھر میں ’’ڈپلومہ اِن قرآن سٹڈیز‘‘ کے انعقاد کے ذریعے قرآن فہمی کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے۔

تقریب میں علامہ محمود مسعود قادری، علامہ محمد سرفراز قادری، علامہ احمد وحید قادری، پروفیسر آصف رضا، میاں انوارالحق، میاں ریحان مقبول، علامہ عزیز الحسن اعوان، رانا رب نواز انجم، ملک غلام حسین، میاں سہیل مقصود، ملک شبیر حسین ایڈووکیٹ، اشفاق حسین ہمزالی، رانا غضنفر علی، علامہ اختر حسین اسد، علامہ اقبال اکرم، شاہد سلیم مصطفوی، محمد ارشد مغل، ملک سرفراز قادری، میاں ظہور انور، عارف حسین نیازی، غلام محمد قادری، میاں ساجد حسین، حافظ سرفراز احمد، زاہد اقبال طاہر، حافظ محمود الحسن، قاسم ابرار سمیت متعدد نمایاں شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔

مقررین نے اپنے خطابات میں اس بات پر زور دیا کہ قرآن کریم انسانیت کے لیے ہدایت، اخلاقی تربیت، کردار سازی، امن اور فلاح کا مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآن کی درست سمجھ ہی مضبوط عقیدے، اعلیٰ اخلاق اور ایک کامیاب و مستحکم معاشرے کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
تقریب کے اختتام پر کورس کامیابی سے مکمل کرنے والے شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ شرکاء نے اس پروگرام کو نہایت مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تربیتی کورس نے ان کی سوچ اور عملی زندگی پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں اور انہیں قرآن حکیم کو بہتر انداز میں سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی نئی راہیں دکھائی ہیں۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ فیصل آباد میں ’’ڈپلومہ اِن قرآن سٹڈیز‘‘ کا کامیاب انعقاد اس بات کی واضح علامت ہے کہ معاشرے میں دینی تعلیمات، خصوصاً قرآن فہمی کے فروغ کی ضرورت اور طلب دونوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تحریک منہاج القرآن اور نظامت ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ڈویلپمنٹ (EPD) کی یہ مشترکہ کاوش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نوجوان نسل کو فکری، اخلاقی اور عملی رہنمائی کی پہلے سے زیادہ ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
اس 10 روزہ پروگرام کی نمایاں بات یہ ہے کہ اس میں 600 سے زائد مرد و خواتین کی شرکت نے یہ ثابت کیا کہ مذہبی و تعلیمی تربیتی کورسز اب صرف محدود حلقوں تک نہیں رہے بلکہ معاشرے کے مختلف طبقات ان میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ شرکاء کی بڑی تعداد اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ لوگ قرآن کو صرف تلاوت تک محدود نہیں رکھنا چاہتے بلکہ اس کے مفہوم اور عملی اطلاق کو بھی سمجھنے کے خواہاں ہیں۔
پروگرام کے دوران ترجمۂ قرآن، عربی زبان اور علوم القرآن پر مبنی تربیت نے شرکاء کو ایک بنیادی فکری ڈھانچہ فراہم کیا، جو کسی بھی فرد کی دینی اور اخلاقی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایسے کورسز کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہوتا ہے کہ یہ لوگوں کو دین کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ اسے اپنی روزمرہ زندگی سے جوڑنے کا شعور دیتے ہیں۔
اختتامی تقریب میں ڈاکٹر محمد رفیق نجم کا یہ مؤقف کہ قرآن محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ عملی زندگی کا ضابطۂ حیات ہے، ایک بنیادی اور اہم پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ بات اس ضرورت کو اجاگر کرتی ہے کہ دینی تعلیم کو محض رسمی عبادات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے کردار سازی اور سماجی اصلاح کا ذریعہ بنایا جائے۔
اسی طرح حافظ سعید رضا بغدادی کی جانب سے EPD کے ملک گیر تعلیمی نیٹ ورک اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی رہنمائی کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ادارہ جاتی سطح پر اس طرح کے پروگرامز کو ایک منظم حکمت عملی کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ یہ امر دینی تعلیم کے فروغ میں تسلسل اور پائیداری کی عکاسی کرتا ہے۔
مقررین کے خطابات میں قرآن کو ہدایت، اخلاق، امن اور فلاح کا جامع نظام قرار دینا اس حقیقت کی توثیق کرتا ہے کہ اسلامی تعلیمات محض مذہبی رسومات تک محدود نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی اور اخلاقی نظام فراہم کرتی ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جو جدید معاشرتی مسائل کے حل میں بھی رہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔
اختتامی مرحلے پر شرکاء میں اسناد کی تقسیم اور ان کے مثبت تاثرات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایسے تربیتی پروگرامز افراد پر حقیقی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ شرکاء کا قرآن فہمی اور عملی زندگی میں تبدیلی کے احساس کا اظہار اس پروگرام کی کامیابی کی عملی دلیل ہے۔






















