پاسپورٹ بنوانے والوں کے لیے بڑی خوشخبری،دفاتر کے چکر لگانے کا دور ختم

پاسپورٹس اینڈ امیگریشن ہیڈکوارٹرز میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین) وفاقی حکومت نے پاسپورٹ کے اجرا اور درخواست کے پورے نظام کو ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ شہریوں کو پاسپورٹ ان کی رہائش گاہ تک پہنچانے کے لیے ہوم ڈلیوری سروس کی تیاری بھی مکمل کر لی گئی ہے۔

اس حوالے سے پاسپورٹس اینڈ امیگریشن ہیڈکوارٹرز میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی۔ اجلاس میں پاسپورٹ سروسز کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور نظام میں مزید بہتری لانے کے لیے متعدد اہم تجاویز اور فیصلوں پر غور کیا گیا۔

اجلاس کے دوران اس بات پر اصولی اتفاق کیا گیا کہ مستقبل میں پاسپورٹ کے اجرا کا پورا نظام ای پاسپورٹ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق اس تبدیلی سے جعلسازی اور دھوکہ دہی کے امکانات نہایت کم ہو جائیں گے اور نظام کی سکیورٹی مزید مضبوط ہوگی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے سے نظام میں شفافیت بڑھے گی اور عوام کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ آسان اور معیاری سہولیات فراہم کی جا سکیں گی۔

اجلاس میں پریمیم سہولت سے فائدہ اٹھانے والے درخواست گزاروں کے لیے نئی فیس پالیسی پر بھی غور کیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ ایسے شہری پاسپورٹ کی تیاری پر آنے والی حقیقی لاگت کے مطابق فیس ادا کریں گے۔

مزید یہ کہ ملک کے اندر اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے پاسپورٹ کی ہوم ڈلیوری سروس متعارف کرانے کے انتظامات تقریباً مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کے تحت شہریوں کو ان کا پاسپورٹ براہِ راست ان کے گھر تک پہنچایا جائے گا اور اس سہولت کا باقاعدہ آغاز جلد متوقع ہے۔

اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ یکم جولائی سے ملک بھر کے تمام پاسپورٹ دفاتر میں نقد رقم کے بجائے مکمل کیش لیس نظام نافذ کیا جائے گا تاکہ ادائیگیوں کے عمل کو مزید شفاف اور آسان بنایا جا سکے۔

اس کے علاوہ پاسپورٹ کے لیے آن لائن درخواستوں کو پاک آئی ڈی پلیٹ فارم کے ساتھ منسلک کرنے کی منظوری بھی دی گئی، جس کا مقصد درخواست جمع کرانے کے عمل کو مزید تیز، سہل اور مؤثر بنانا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ بزنس پاسپورٹ سے متعلق مجوزہ پالیسی کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ساتھ مشاورت کے بعد جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ اسے بروقت نافذ کیا جا سکے۔

اجلاس کے اختتام پر ڈی جی پاسپورٹس اینڈ امیگریشن محمد علی رندھاوا نے وزیر داخلہ کو جاری اصلاحاتی منصوبوں، نئی تجاویز اور مستقبل کے اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ بھی دی۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں پاسپورٹ کے نظام کو مکمل طور پر آن لائن اور ای پاسپورٹ ٹیکنالوجی کی طرف منتقل کرنے کا فیصلہ ایک اہم انتظامی اور ڈیجیٹل اصلاحات کی جانب بڑا قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہ اقدام محض ایک تکنیکی تبدیلی نہیں بلکہ سرکاری خدمات کی فراہمی کے پورے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی کی علامت ہے۔

گزشتہ کئی برسوں سے پاسپورٹ دفاتر میں رش، طویل قطاریں، تاخیر اور بعض اوقات بدعنوانی جیسے مسائل عوامی شکایات کا مرکز رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے نظام کو ڈیجیٹل بنانے کا مقصد انہی رکاوٹوں کو کم کرنا اور شہریوں کو نسبتاً تیز، شفاف اور آسان سہولیات فراہم کرنا ہے۔

ای پاسپورٹ کے نفاذ سے سب سے بڑا فائدہ سکیورٹی کے شعبے میں متوقع ہے، کیونکہ ڈیجیٹل نظام میں جعلسازی اور دستاویزات کی غلط استعمال کے امکانات نمایاں طور پر کم ہو جاتے ہیں۔ بائیومیٹرک اور جدید ڈیٹا انٹیگریشن کے ذریعے شناختی عمل مزید مضبوط ہونے کی توقع ہے۔

ہوم ڈلیوری سروس کا آغاز شہری سہولت کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ شہریوں کو دفاتر کے چکر لگانے کی مشقت سے بھی نجات ملے گی۔ اسی طرح کیش لیس نظام کا نفاذ شفافیت بڑھانے اور مالی لین دین کو زیادہ منظم بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

تاہم اس نظام کی کامیابی کا انحصار اس کے عملی نفاذ اور انفراسٹرکچر کی مضبوطی پر ہوگا۔ اگر ڈیجیٹل پلیٹ فارم، انٹرنیٹ سہولیات اور سٹاف کی تربیت مناسب انداز میں نہ کی گئی تو مطلوبہ نتائج حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اسی طرح دیہی اور دور دراز علاقوں میں شہریوں کو آن لائن نظام تک رسائی کے لیے اضافی سہولیات فراہم کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ اصلاحات پاکستان کے سرکاری نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی سمت ایک مثبت قدم ہیں، لیکن ان کے حقیقی فوائد اسی وقت سامنے آئیں گے جب ان پر مستقل مزاجی سے عمل درآمد کیا جائے اور عوامی سطح پر ان کی آگاہی کو بھی یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین