چیف جسٹس یحییٰ آفریدی روس روانہ، جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف اٹھا لیا

سپریم کورٹ رجسٹری کراچی میں پروقار تقریب، روس میں انٹرنیشنل لیگل فورم میں پاکستان کی نمائندگی کی جائے گی

کراچی (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ملک کی اعلیٰ عدلیہ میں اہم انتظامی پیش رفت کے تحت سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی بیرون ملک مصروفیات کے باعث جسٹس منیب اختر عارضی طور پر ملک کے اعلیٰ ترین عدالتی منصب کی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔

حلف برداری کی تقریب سپریم کورٹ رجسٹری کراچی میں منعقد ہوئی جہاں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس محمد شفیع صدیقی نے جسٹس منیب اختر سے قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لیا۔

تقریب میں سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے معزز ججز سمیت اعلیٰ عدالتی حکام اور قانونی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران عدلیہ کے وقار اور آئینی ذمہ داریوں کے حوالے سے خصوصی ماحول دیکھنے میں آیا۔

جاری کردہ اعلامیے کے مطابق جسٹس منیب اختر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی وطن واپسی تک قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی 24 سے 26 جون تک روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں منعقد ہونے والے انٹرنیشنل لیگل فورم میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔

یہ بین الاقوامی فورم دنیا بھر کے ججوں، قانونی ماہرین اور عدالتی شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتا ہے جہاں قانون، انصاف، آئینی امور اور عدالتی اصلاحات سے متعلق اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جاتا ہے۔

قانونی حلقوں کے مطابق اس فورم میں پاکستان کی نمائندگی ملک کے عدالتی نظام اور قانونی تجربات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا اہم موقع ثابت ہوگی۔

جسٹس منیب اختر پاکستان کی عدالتی تاریخ میں ایک اہم اور باوقار مقام رکھتے ہیں۔ انہیں آئینی، قانونی اور عوامی اہمیت کے متعدد مقدمات میں اپنے تفصیلی اور مؤثر فیصلوں کے باعث قانونی حلقوں میں خصوصی احترام حاصل ہے۔

عدالتی ماہرین کا کہنا ہے کہ قائم مقام چیف جسٹس کے طور پر ان کی تقرری عدالتی امور کے تسلسل اور انتظامی استحکام کو یقینی بنائے گی۔

ملک کے قانونی و عدالتی حلقوں نے جسٹس منیب اختر کو نئی ذمہ داری سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی ہے جبکہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی بین الاقوامی فورم میں شرکت کو بھی پاکستان کیلئے ایک مثبت سفارتی اور قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق عالمی قانونی فورمز میں پاکستان کی مؤثر نمائندگی عدالتی نظام کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جسٹس منیب اختر کی بطور قائم مقام چیف جسٹس تقرری عدالتی تسلسل کی آئینی روایت کا حصہ ہے۔

عوامی ردعمل

قانونی برادری اور سوشل میڈیا صارفین نے جسٹس منیب اختر کی حلف برداری کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ عدالتی امور معمول کے مطابق جاری رہیں گے۔

ماہرین کی رائے

قانونی ماہرین کے مطابق بین الاقوامی لیگل فورمز میں شرکت سے پاکستان کو عالمی عدالتی تجربات سے استفادہ کرنے اور اپنے قانونی نقطہ نظر کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع ملتا ہے۔

عدلیہ کسی بھی ریاست کا بنیادی ستون ہوتی ہے۔ اعلیٰ عدالتی عہدوں پر ذمہ داریوں کی منتقلی کا آئینی اور منظم طریقہ ادارہ جاتی استحکام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

میری رائے میں پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کی بین الاقوامی سطح پر نمائندگی اور ادارہ جاتی تسلسل دونوں ہی مثبت پیش رفت ہیں۔ ایسے اقدامات نہ صرف عدالتی نظام پر اعتماد کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے قانونی تشخص کو بھی بہتر بناتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین