عالمی منڈی میں تیل مہنگا، پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ

ایران، امریکا کشیدگی کے اثرات پاکستان تک پہنچ گئے

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق 18 جولائی سے نافذ ہونے والے نئے قیمتوں کے جائزے میں ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 40 روپے فی لیٹر جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان ہے۔ اگر یہ اضافہ منظور ہو جاتا ہے تو عوام کو ایک مرتبہ پھر مہنگائی کے نئے بوجھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کے نرخ مسلسل بڑھ رہے ہیں، جس کا براہِ راست اثر تیل درآمد کرنے والے ممالک، خصوصاً پاکستان، پر پڑ رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت عوام پر اضافی بوجھ کم کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی میں کمی سمیت مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے تاکہ ممکنہ اضافے کے اثرات کسی حد تک محدود کیے جا سکیں۔

دوسری جانب حکومت نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ نیشنل کمیٹی آن مانیٹرنگ اینڈ کوآرڈینیشن نے ذخیرہ اندوزی کے خدشات کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو فوری اقدامات کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق اوگرا کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف بلا تاخیر قانونی کارروائی کی جائے اور ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پاکستان جیسے درآمدی ممالک کے لیے مسلسل ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ ان کے مطابق قلیل مدتی اقدامات کے ساتھ ساتھ متبادل توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا اور توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کی حکمت عملی اختیار کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق عالمی سطح پر جاری کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان کی معیشت عالمی تیل کی قیمتوں سے براہِ راست متاثر ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اگر خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھتی رہیں تو حکومت کو قیمتوں، لیویز اور مالیاتی پالیسی کے درمیان توازن قائم رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

عوامی رائے

ممکنہ اضافے کی خبروں کے بعد عوامی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔

ماہرین کی رائے

معاشی ماہرین کے مطابق ذخیرہ اندوزی کے خلاف بروقت کارروائی ضروری ہے، تاہم طویل المدتی استحکام کے لیے حکومت کو توانائی کے متبادل ذرائع، مقامی وسائل کے بہتر استعمال اور درآمدی انحصار میں کمی کے لیے جامع حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے ایک مستقل معاشی چیلنج ہے۔ ایسے حالات میں عوامی مفاد، مؤثر نگرانی اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔

میری رائے میں اگر عالمی حالات کے باعث قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو تو حکومت کو اس کے اثرات کم کرنے کے لیے مؤثر ریلیف اقدامات، شفاف پالیسی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ عام شہری پر اضافی مالی بوجھ کم سے کم پڑے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین