روم (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایک نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ہارٹ اٹیک سے بچ جانے والے افراد کے خون میں نہایت باریک پلاسٹک ذرات، یعنی مائیکرو اور نینو پلاسٹکس، کی مقدار دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ پائی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس خدشے کو تقویت دیتے ہیں کہ پلاسٹک آلودگی دل کی بیماریوں کے لیے ایک نظر انداز کیا جانے والا خطرہ ہو سکتی ہے۔
یہ تحقیق اٹلی کی یونیورسٹی آف کیمپانیا کے محققین نے کی، جس میں یہ بھی سامنے آیا کہ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد اور فضائی آلودگی کا زیادہ سامنا کرنے والوں کے خون میں بھی مائیکرو اور نینو پلاسٹکس کی سطح نسبتاً زیادہ تھی۔
یورپین ہارٹ جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق دل کے شدید دورے (ہارٹ اٹیک) کے 84 فیصد مریضوں کی دل کو خون فراہم کرنے والی شریانوں میں مائیکرو اور نینو پلاسٹکس موجود تھے۔
اس کے برعکس دائمی اسکیمک دل کی بیماری میں مبتلا صرف 40 فیصد مریضوں، جبکہ نارمل کورونری شریانوں والے 32 فیصد افراد میں یہ ذرات پائے گئے، جس سے مختلف مریضوں کے درمیان نمایاں فرق سامنے آیا۔
ماہرین کے مطابق مائیکرو اور نینو پلاسٹکس انتہائی باریک پلاسٹک ذرات ہوتے ہیں، جو روزمرہ استعمال کی اشیا، مثلاً پلاسٹک پیکنگ، مصنوعی کپڑوں اور دیگر مصنوعات سے خارج ہو کر ماحول اور انسانی جسم تک پہنچ سکتے ہیں۔
محققین نے واضح کیا کہ اس تحقیق سے براہِ راست یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مائیکرو پلاسٹکس ہی ہارٹ اٹیک کی وجہ بنتے ہیں، تاہم دستیاب شواہد اس امکان کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ ذرات انسانی دل اور خون کی شریانوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس تعلق کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق مائیکرو پلاسٹکس سے متعلق یہ تحقیق ماحول اور انسانی صحت کے درمیان تعلق پر ایک اہم سوال اٹھاتی ہے۔ اگر آئندہ تحقیقات بھی ان نتائج کی تصدیق کرتی ہیں تو دل کی بیماریوں کے خطرات کا جائزہ لیتے وقت ماحولیاتی آلودگی کو بھی ایک اہم عنصر کے طور پر شامل کرنا پڑ سکتا ہے۔
عوامی رائے
تحقیق سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین نے پلاسٹک کے بڑھتے استعمال اور ماحولیاتی آلودگی پر تشویش کا اظہار کیا۔ کئی افراد نے ماحول دوست مصنوعات کے استعمال اور پلاسٹک کے کم سے کم استعمال کی ضرورت پر زور دیا۔
ماہرین کی رائے
امراضِ قلب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ تحقیق کے نتائج اہم ہیں، لیکن اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مائیکرو پلاسٹکس براہِ راست ہارٹ اٹیک کا سبب بنتے ہیں۔ ان کے مطابق اس تعلق کی مکمل وضاحت کے لیے بڑے پیمانے پر مزید کلینیکل اور سائنسی تحقیقات ناگزیر ہیں۔
یہ تحقیق اس حقیقت کی جانب توجہ دلاتی ہے کہ ماحولیاتی آلودگی کے اثرات صرف فضا اور پانی تک محدود نہیں بلکہ انسانی صحت، خصوصاً دل کی بیماریوں، پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے ماحول کے تحفظ اور پلاسٹک کے ذمہ دارانہ استعمال کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
میری رائے میں یہ تحقیق ایک اہم انتباہ ضرور ہے، لیکن اس کے نتائج کو حتمی فیصلہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ صحت مند طرزِ زندگی، تمباکو نوشی سے پرہیز، فضائی آلودگی سے حتیٰ الامکان بچاؤ اور مزید سائنسی تحقیق ہی اس مسئلے کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے۔





















