لاہور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)جلد کو زیادہ گورا اور نکھرا ہوا بنانے کے لیے استعمال ہونے والی وائٹننگ کریمیں اور بلیچ وقتی طور پر رنگت میں فرق تو پیدا کر سکتی ہیں، لیکن ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ان مصنوعات کا مسلسل استعمال جلد کے لیے سنگین اور بعض اوقات مستقل مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔
پاکستان سمیت کئی ایشیائی ممالک میں رنگ گورا کرنے والی کریموں کا استعمال عام ہے، جہاں اکثر افراد جلد کے ماہر سے مشورہ کیے بغیر مختلف بیوٹی مصنوعات استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
ماہرینِ امراضِ جلد کے مطابق مارکیٹ میں دستیاب متعدد کریموں میں ایسے کیمیکلز، اسٹیرائیڈز اور دیگر اجزاء شامل ہوتے ہیں جو وقتی طور پر جلد کو صاف اور روشن دکھاتے ہیں، مگر طویل عرصے تک استعمال کرنے سے یہی اجزاء جلدی بیماریوں، حساسیت اور مستقل نشانات کا باعث بن سکتے ہیں۔
تحقیقی اعداد و شمار کے مطابق رنگ گورا کرنے والی 48 فیصد مصنوعات میں پارے (Mercury) کی مقدار محفوظ حد سے کئی گنا زیادہ پائی گئی، جو نہ صرف جلد بلکہ مجموعی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کریموں کا مسلسل استعمال کرنے والے بہت سے افراد کو چہرے پر مہاسوں، دانوں اور جلدی انفیکشن کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مصنوعات میں موجود کارٹیکوسٹیرائیڈز وقتی طور پر جلد کو چمکدار ضرور بناتے ہیں، لیکن وقت کے ساتھ یہی مہاسے مستقل دھبوں اور داغوں کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہائیڈروکوئنون پر مشتمل کریموں کا طویل استعمال ایک ایسی جلدی بیماری پیدا کر سکتا ہے جسے ایگزو جینس اوکرونوسس کہا جاتا ہے، جس میں جلد پر نیلے یا سیاہ رنگ کے مستقل دھبے نمودار ہونے لگتے ہیں، خصوصاً حساس جلد رکھنے والے افراد میں یہ مسئلہ زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ان مصنوعات کا ایک اور ممکنہ نقصان ڈرماٹائٹس ہے، جس میں جلد سرخ ہو جاتی ہے، شدید خارش، سوجن، دانے، چھالے اور بعض اوقات زخم بھی بن سکتے ہیں، جس سے مریض کو طویل علاج کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
ماہرینِ امراضِ جلد نے مشورہ دیا ہے کہ اگر کسی بھی وائٹننگ کریم یا بلیچ کے استعمال کے دوران جلد پر سرخی، خارش، دانے، سوجن یا غیر معمولی دھبے ظاہر ہوں تو فوری طور پر اس کا استعمال بند کر دینا چاہیے اور مستند ماہرِ امراضِ جلد سے رجوع کرنا چاہیے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق خوبصورتی کی دوڑ نے جلد کو گورا کرنے والی مصنوعات کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے، تاہم اکثر صارفین ان کریموں کے ممکنہ نقصانات سے آگاہ نہیں ہوتے۔ غیر معیاری مصنوعات اور بغیر طبی مشورے کے استعمال نہ صرف جلد بلکہ مجموعی صحت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے عوام میں آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے رنگ گورا کرنے والی غیر معیاری کریموں کی فروخت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حکومت ایسے برانڈز کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ کئی افراد نے اپنے ذاتی تجربات بھی شیئر کیے جن میں جلد خراب ہونے، الرجی اور مستقل دھبوں کی شکایات سامنے آئیں۔
ماہرین کی رائے
ماہرینِ امراضِ جلد کا کہنا ہے کہ خوبصورتی کا تعلق صرف رنگت سے نہیں بلکہ صحت مند جلد سے ہے۔ ان کے مطابق متوازن غذا، مناسب پانی، سن اسکرین کا استعمال اور جلد کی درست دیکھ بھال مصنوعی وائٹننگ کریموں کے مقابلے میں کہیں زیادہ محفوظ اور مؤثر طریقہ ہے۔
صرف گورا رنگ حاصل کرنے کی خواہش میں غیر معیاری یا غیر رجسٹرڈ کریموں کا استعمال ایک خطرناک رجحان بنتا جا رہا ہے۔ متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ایسی مصنوعات کی سخت نگرانی کریں، جبکہ عوام بھی صرف اشتہارات پر یقین کرنے کے بجائے مستند طبی مشورے کو ترجیح دیں۔
میری رائے میں خوبصورتی کا معیار صرف رنگت نہیں بلکہ صحت مند جلد ہے۔ جلد کو وقتی طور پر گورا کرنے کے دعوے کرنے والی ہر کریم محفوظ نہیں ہوتی، اس لیے کسی بھی ایسی پروڈکٹ کا استعمال کرنے سے پہلے اس کے اجزاء، معیار اور ماہرِ امراضِ جلد کی رائے ضرور معلوم کرنی چاہیے۔ احتیاط ہی جلد کو دیرپا نقصان سے بچانے کا بہترین طریقہ ہے۔





















