پورٹ آف اسپین (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)پاکستان کے اوپننگ بیٹر عبداللہ شفیق نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں شاندار اور ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اپنی ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچایا بلکہ 49 برس پرانا پاکستانی ریکارڈ بھی توڑ دیا۔
کوئینز پارک اوول میں تیسرے روز کھیل کا آغاز ہوا تو کپتان بابر اعظم 84 اور عبداللہ شفیق 107 رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔ دونوں بیٹرز نے اننگز کو مزید آگے بڑھایا اور پاکستان کے اسکور میں اہم اضافہ کیا۔
پاکستان کی پوری ٹیم 387 رنز پر آل آؤٹ ہوئی، جبکہ عبداللہ شفیق 160 رنز بنا کر ناقابلِ شکست رہے۔ ان کی یہ اننگز پاکستان کی پہلی اننگز کی بنیاد ثابت ہوئی اور ٹیم کو مقابلے میں نمایاں برتری دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔
عبداللہ شفیق کی یہ اننگز صرف ٹیم کے لیے اہم نہیں بلکہ تاریخی حیثیت بھی رکھتی ہے۔ وہ 49 سال بعد ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر ٹیسٹ کرکٹ میں 150 سے زائد رنز بنانے والے پہلے پاکستانی بیٹر بن گئے ہیں۔
اس سے قبل 1977 میں پاکستان کے مایہ ناز بیٹر ماجد خان نے گیانا میں 167 رنز کی اننگز کھیل کر یہ اعزاز حاصل کیا تھا، جس کے بعد تقریباً نصف صدی تک کوئی پاکستانی بیٹر ویسٹ انڈیز میں اس سنگ میل کو عبور نہ کر سکا۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جانب سے بیرون ملک ٹیسٹ کرکٹ میں کھیلی گئی 150 سے زائد رنز کی گزشتہ چار اننگز میں سے تین عبداللہ شفیق کے نام ہیں، جو ان کی مستقل مزاجی اور طویل اننگز کھیلنے کی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔
دوسری جانب ویسٹ انڈیز نے اپنی دوسری اننگز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 103 رنز بنا لیے ہیں اور اسے پاکستان کے خلاف 60 رنز کی برتری حاصل ہے، جس کے باعث میچ ایک دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق عبداللہ شفیق کی اننگز صرف ایک بڑی انفرادی کارکردگی نہیں بلکہ یہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کے لیے ایک مثبت اشارہ بھی ہے۔ مشکل غیر ملکی کنڈیشنز میں طویل اننگز کھیلنا ہر بیٹر کے بس کی بات نہیں ہوتی، اور عبداللہ شفیق نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ پاکستان کے مستقبل کے اہم ٹیسٹ بیٹرز میں شمار ہوتے ہیں۔
عوامی رائے پر شائقینِ کرکٹ نے عبداللہ شفیق کی شاندار اننگز کو خوب سراہا۔ کئی صارفین نے انہیں پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کا مستقبل قرار دیا، جبکہ بعض نے انہیں آئندہ برسوں میں ٹیم کی بیٹنگ لائن کا سب سے قابلِ اعتماد ستون قرار دیا۔
ماہرین کی رائے
کرکٹ ماہرین کے مطابق عبداللہ شفیق کی تکنیکی مہارت، صبر اور لمبی اننگز کھیلنے کی صلاحیت انہیں موجودہ دور کے بہترین ٹیسٹ اوپنرز میں شامل کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق بیرون ملک ایسی اننگز کھیلنا کسی بھی بیٹر کے اعتماد اور کیریئر کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے۔
پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ کو ہمیشہ ایسے بیٹرز کی ضرورت رہی ہے جو مشکل حالات میں وکٹ پر ٹھہر کر بڑی اننگز کھیل سکیں۔ عبداللہ شفیق کی یہ کارکردگی نہ صرف ان کے روشن مستقبل کی علامت ہے بلکہ نوجوان کرکٹرز کے لیے بھی ایک بہترین مثال ہے۔
میری رائے میں عبداللہ شفیق نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں کامیابی صرف جارحانہ کھیل سے نہیں بلکہ صبر، مستقل مزاجی اور درست تکنیک سے حاصل ہوتی ہے۔ اگر وہ اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہیں تو آنے والے برسوں میں پاکستان کے نمایاں ٹیسٹ بیٹرز میں ان کا شمار ہونا یقینی دکھائی دیتا ہے۔





















