اسلحے کے ذخائر پر سوالات، ٹرمپ اور وزیر دفاع کے درمیان کشیدگی؟ واشنگٹن پوسٹ کا بڑا دعویٰ

اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے وضاحت طلب کی کہ اسلحے کے ذخائر میں کمی کیوں برقرار ہے۔واشنگٹن پوسٹ

واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے کیمپ ڈیوڈ میں ہونے والے کابینہ اجلاس کے دوران امریکی فوج کے اسلحے اور میزائلوں کے ذخائر میں کمی پر وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے سخت سوالات کیے۔

رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ اس بات پر حیران تھے کہ اہم ہتھیاروں، بالخصوص طویل فاصلے تک مار کرنے والے گائیڈڈ میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام میں استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کی قلت اب بھی برقرار ہے، حالانکہ انہیں پہلے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ یہ مسئلہ کافی حد تک حل ہو چکا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے وضاحت طلب کی کہ اسلحے کے ذخائر میں کمی کیوں برقرار ہے اور اس مسئلے کو ختم کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محدود اسلحہ ذخائر کی یہی صورتحال ایران کے خلاف مزید بڑے فوجی حملوں سے متعلق امریکی فیصلوں پر بھی اثرانداز ہوئی، کیونکہ دستیاب فوجی وسائل نے ممکنہ آپریشنز کے دائرہ کار کو محدود کر دیا۔

ذرائع کے مطابق امریکی فوج کو خاص طور پر جدید گائیڈڈ میزائلوں اور فضائی دفاعی نظام کے لیے درکار اہم ہتھیاروں کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے، جس پر دفاعی حلقوں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے۔

تاہم وائٹ ہاؤس نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صدر ٹرمپ اور وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے درمیان ایران سے متعلق پالیسی یا اسلحے کے معاملے پر کسی قسم کا اختلاف یا تلخ کلامی نہیں ہوئی۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کے مطابق صدر ٹرمپ وزیر دفاع کی کارکردگی سے مطمئن ہیں اور ایسی رپورٹس حقائق کے برعکس ہیں۔

یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ جاری کشیدگی، امریکی فوجی تیاریوں اور دفاعی صلاحیتوں پر امریکی میڈیا اور حکومتی حلقوں میں مختلف آراء اور دعوے سامنے آ رہے ہیں۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق اس خبر کا بڑا حصہ امریکی میڈیا کی رپورٹنگ اور نامعلوم ذرائع کے دعوؤں پر مبنی ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس نے ان دعوؤں کی باضابطہ تردید بھی کی ہے۔ اس لیے اس معاملے کو متوازن انداز میں دیکھنا ضروری ہے اور مزید سرکاری معلومات یا شواہد سامنے آنے کا انتظار کیا جانا چاہیے۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر اس رپورٹ کے بعد مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض صارفین نے امریکی فوجی تیاریوں پر سوالات اٹھائے، جبکہ دیگر نے وائٹ ہاؤس کی تردید کو زیادہ قابلِ اعتماد قرار دیتے ہوئے میڈیا رپورٹس پر محتاط رویہ اپنانے کا مشورہ دیا۔

ماہرین کی رائے

دفاعی ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے اسلحہ ذخائر اور عسکری تیاریوں سے متعلق معلومات انتہائی حساس نوعیت کی ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میڈیا رپورٹس، سرکاری بیانات اور زمینی حقائق میں فرق ہو سکتا ہے، اس لیے ایسے معاملات میں مصدقہ معلومات کو ترجیح دینا ضروری ہے۔

فوجی اور دفاعی معاملات سے متعلق خبروں میں شفافیت اور درست معلومات کی فراہمی انتہائی اہم ہوتی ہے۔ ایسے دعوؤں کو حتمی حقیقت سمجھنے کے بجائے مختلف ذرائع اور سرکاری مؤقف کو بھی مدنظر رکھنا ذمہ دارانہ صحافت کا تقاضا ہے۔

میری رائے میں اس خبر کو ایک جاری بحث کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ ایک طرف امریکی اخبار کے ذرائع پر مبنی دعوے موجود ہیں جبکہ دوسری جانب وائٹ ہاؤس ان کی واضح تردید کر رہا ہے۔ مکمل تصویر سامنے آنے تک کسی ایک مؤقف کو حتمی قرار دینا مناسب نہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین