لاہور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)بھارت کے شہر چندی گڑھ کی ایک ضلعی عدالت نے ’بینگ ہیومن‘ جیولری فرنچائز سے متعلق مبینہ فراڈ اور دھوکہ دہی کے مقدمے میں بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان، ان کی بہن الویرا خان اگنی ہوتری اور اسٹائل اینڈ کانٹینٹ جیولری پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹرز کو سمن جاری کر دیے ہیں۔
عدالت نے تمام نامزد افراد کو 5 اکتوبر کو پیش ہو کر شکایت میں عائد الزامات پر اپنا جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق چندی گڑھ کے کاروباری شخصیت ارون گپتا نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں ’بینگ ہیومن‘ جیولری کا شوروم قائم کرنے کے لیے منافع بخش کاروباری امکانات کا یقین دلایا گیا، جس کے بعد انہوں نے تقریباً 3 کروڑ بھارتی روپے کی سرمایہ کاری کی۔
شکایت کے مطابق اس سرمایہ کاری میں سے تقریباً 1 کروڑ روپے شوروم کے قیام اور دیگر انتظامات پر خرچ کیے گئے، جبکہ انہوں نے معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریاں بھی پوری کیں۔
درخواست گزار کا الزام ہے کہ شوروم کے افتتاح کے بعد کمپنی نے وعدے کے مطابق کاروباری معاونت فراہم نہیں کی۔ ان کے مطابق فروری 2020 سے جیولری سپلائی کرنے والا آؤٹ لیٹ بند ہونے کے باعث مصنوعات کی فراہمی متاثر ہوئی، جس سے انہیں بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
شکایت میں کمپنی سے وابستہ چھ افراد پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر غلط معلومات فراہم کر کے انہیں بڑی سرمایہ کاری پر آمادہ کیا۔
کمپنی کا مؤقف
دوسری جانب اسٹائل اینڈ کانٹینٹ جیولری پرائیویٹ لمیٹڈ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2018 میں ہونے والے معاہدے میں سلمان خان براہِ راست فریق نہیں تھے۔
کمپنی کے مطابق سلمان خان فاؤنڈیشن نے 2015 میں صرف ’بینگ ہیومن‘ برانڈ کے استعمال کا لائسنس جاری کیا تھا، جبکہ جیولری کے کاروبار، آپریشنز، مارکیٹنگ اور فروخت کی مکمل ذمہ داری کمپنی کے پاس تھی۔
فی الحال یہ مقدمہ عدالتی کارروائی کے ابتدائی مرحلے میں ہے۔ عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے سمن صرف قانونی کارروائی کا حصہ ہیں، جبکہ شکایت میں لگائے گئے الزامات پر ابھی کوئی عدالتی فیصلہ نہیں آیا۔ کیس کی آئندہ سماعت 5 اکتوبر کو ہوگی۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق اس مرحلے پر عدالت نے صرف فریقین کو طلب کیا ہے، جس کا مقصد الزامات پر ان کا مؤقف سننا ہے۔ سمن جاری ہونا کسی شخص کے قصوروار ہونے کا ثبوت نہیں ہوتا، بلکہ یہ عدالتی کارروائی کا معمول کا حصہ ہے۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر اس خبر کے بعد مختلف آراء سامنے آئیں۔ بعض صارفین نے مکمل عدالتی کارروائی کا انتظار کرنے پر زور دیا، جبکہ دیگر نے مطالبہ کیا کہ کاروباری تنازعات میں تمام حقائق سامنے آنے کے بعد ہی کسی نتیجے پر پہنچنا چاہیے۔
ماہرین کی رائے
قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی مقدمے میں سمن کا اجرا صرف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عدالت نے شکایت قابلِ سماعت سمجھی ہے۔ اس مرحلے پر نہ الزامات ثابت ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی فریق کو قصوروار قرار دیا جاتا ہے۔ حتمی فیصلہ شواہد اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آتا ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران تمام فریقوں کو اپنی صفائی پیش کرنے کا مساوی حق حاصل ہوتا ہے۔ ایسے مقدمات میں غیر مصدقہ قیاس آرائیوں سے گریز اور عدالتی فیصلے کا انتظار کرنا ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے۔
میری رائے میں اس خبر کو صرف عدالتی کارروائی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ سمن کا اجرا قانونی عمل کا ایک مرحلہ ہے، جبکہ الزامات کی حقیقت کا تعین عدالت میں پیش ہونے والے شواہد اور دلائل کی بنیاد پر ہی ہوگا۔





















