واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ایران کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگیں مکمل طور پر صاف کردی ہیں اور اب امریکا نے اس اہم آبی گزرگاہ پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز اب کھلا ہے اور اس وقت اس پر صرف امریکی بحریہ کا کنٹرول ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران کبھی کبھار آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھاتا ہے، تاہم امریکی بحریہ ان سرنگوں کا سراغ لگا کر انہیں صاف کردیتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ نے پورے آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے پاک کردیا ہے۔
امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز پر 100 فیصد کنٹرول حاصل ہوچکا ہے اور اس کے کسی بھی حصے میں ایران کی کوئی عمل داری نہیں ہے۔
تاہم، صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے حوالے سے ایران کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے آنے کی اطلاع نہیں ہے، جبکہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق بھی تاحال سامنے نہیں آئی۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی ایک بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے، جس کے باعث یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول سے متعلق امریکی صدر کا دعویٰ خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہم ہے۔ تاہم ایسے فوجی دعوؤں کی حتمی حیثیت جانچنے کے لیے متعلقہ فریقوں کے باضابطہ بیانات اور آزاد ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر صدر ٹرمپ کے دعوے کے بعد صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔ بعض حلقے اسے امریکی بحری طاقت کا اظہار قرار دے سکتے ہیں، جبکہ دیگر آبنائے ہرمز کی حساس صورتحال اور عالمی توانائی کی سپلائی پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے تشویش کا اظہار کر سکتے ہیں۔
ماہرین کی رائے
دفاعی اور بحری امور کے ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں یا دیگر رکاوٹوں کی موجودگی عالمی بحری تجارت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ اگر اس آبی گزرگاہ میں بحری آمدورفت مکمل طور پر بحال رہتی ہے تو عالمی توانائی کی سپلائی پر دباؤ کم ہو سکتا ہے، تاہم کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں صورتحال دوبارہ خراب ہونے کا خدشہ موجود رہے گا۔
آبنائے ہرمز صرف ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کا حصہ نہیں بلکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے بھی انتہائی اہم راستہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس آبی گزرگاہ کی سلامتی اور آزادانہ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے تمام فریق ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کریں۔
میری رائے میں آبنائے ہرمز سے متعلق صدر ٹرمپ کا دعویٰ خطے میں موجود کشیدگی کی حساسیت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ تاہم جنگی حالات میں سامنے آنے والے دعوؤں کو حتمی حقیقت سمجھنے کے بجائے آزادانہ تصدیق اور مزید قابلِ اعتماد معلومات کا انتظار کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔





















