ریاض:(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے پھیلاؤ اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سعودی عرب نے اپنی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کردیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پائپ لائن کو متعدد ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بعض افراد زخمی ہوئے اور تنصیب کو نقصان پہنچا۔ سعودی وزارتِ توانائی نے پائپ لائن کی بندش کو احتیاطی اقدام قرار دیا ہے۔
تقریباً 1200 کلومیٹر طویل یہ پائپ لائن سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں پیدا ہونے والے خام تیل کو بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع ینبع تک پہنچانے کا اہم ذریعہ ہے۔ موجودہ علاقائی بحران میں اس کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے کے بعد سعودی عرب نے عالمی منڈی تک اپنے تیل کی ترسیل کے لیے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن پر زیادہ انحصار کیا ہے۔
حالیہ مہینوں میں اس پائپ لائن کے ذریعے روزانہ تقریباً 40 لاکھ سے 50 لاکھ بیرل خام تیل منتقل کیے جانے کا تخمینہ ہے، جو عالمی تیل سپلائی کا تقریباً 4 سے 5 فیصد بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پائپ لائن پر حملے اور اس کی عارضی بندش نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش پیدا کردی ہے۔ رائٹرز کے مطابق سعودی عرب کی خام تیل سپلائی تین دہائیوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطح تک پہنچ چکی ہے، جبکہ تیل کی قیمتیں دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر رہنے کی طرف بڑھ رہی ہیں۔
سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق پائپ لائن پر حملوں میں متعدد ڈرون استعمال کیے گئے جو عراق کی سمت سے آئے تھے۔ سعودی حکام نے کہا کہ حملوں کے نتیجے میں انسانی نقصان بھی ہوا اور پائپ لائن کو نقصان پہنچا، جس کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ہنگامی اور خصوصی تکنیکی ٹیموں نے فوری طور پر علاقے کو محفوظ بنانے اور پائپ لائن کی صورتحال جانچنے کے لیے کارروائی شروع کردی۔
سعودی عرب نے فوری جوابی کارروائی سے گریز کا فیصلہ کیا ہے۔ سعودی وزارتِ خارجہ کے مطابق عراقی وزیراعظم کی درخواست پر ریاض نے فی الحال جواب نہ دینے کا فیصلہ کیا تاکہ عراقی حکومت کو عراق سے سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف حملے روکنے کے لیے ضروری اقدامات کا موقع مل سکے۔ تاہم سعودی عرب نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، سلامتی، تنصیبات اور شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
عراق نے بھی سعودی عرب میں ہونے والے حملوں کی مذمت کی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق عراقی حکام نے تحقیقات کے بعد ایک فوجی کمانڈر کو بھی عہدے سے ہٹا دیا ہے، جبکہ بغداد نے حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں روکنے کے لیے اقدامات کا عندیہ دیا ہے۔
بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی پیش قدمی
دوسری جانب یمن کے حوثی جنگجوؤں نے بحیرۂ احمر کے جنوبی داخلی راستے کے قریب اپنی پوزیشن مزید مضبوط کرلی ہے۔ رائٹرز کے مطابق حوثی جنگجو اسٹریٹجک پیرم/میون جزیرے تک پہنچ گئے ہیں، جو باب المندب کے اہم بحری راستے پر واقع ہے۔ یمنی حکومت کے ذرائع کے مطابق حوثیوں نے جزیرے کے ساتھ ساتھ بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے میں بھی پیش قدمی کی ہے۔
باب المندب عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ اس علاقے میں حوثیوں کا اثر و رسوخ بڑھنے سے سعودی عرب کے لیے بحیرۂ احمر کے ذریعے تیل کی برآمدات برقرار رکھنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔ اس صورتحال کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ آبنائے ہرمز میں پہلے ہی کشیدگی کے باعث تیل کی عالمی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا ہے کہ سعودی بحری جہازوں کے علاوہ دیگر جہازوں کے لیے سمندری آمدورفت محفوظ ہے، جبکہ سعودی جہازوں کے خلاف پہلے سے اعلان کردہ پابندی برقرار رہے گی۔ اس بیان نے عالمی شپنگ کمپنیوں اور توانائی کے شعبے میں مزید تشویش پیدا کردی ہے۔
سعودی خام تیل کی سپلائی شدید متاثر
بین الاقوامی توانائی مارکیٹ کے لیے موجودہ صورتحال اس لیے انتہائی اہم ہے کہ سعودی عرب دنیا کے بڑے تیل برآمد کنندگان میں شامل ہے۔ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہونے کے بعد ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سعودی عرب کے لیے ایک اہم متبادل راستہ بن گئی تھی۔
اب پائپ لائن پر حملے اور اس کی عارضی بندش کے ساتھ ساتھ باب المندب میں حوثیوں کی پیش قدمی نے سعودی تیل کی برآمدات کے لیے ایک نئی مشکل پیدا کردی ہے۔ رائٹرز کے مطابق سعودی خام تیل کی سپلائی تین دہائیوں سے زائد عرصے کی کم ترین سطح تک گر گئی ہے۔
سعودی عرب کے پاس تیل کو بحیرۂ احمر کے ذریعے ینبع تک پہنچانے کے علاوہ کچھ متبادل راستے بھی موجود ہیں، تاہم ان میں اضافی وقت اور لاگت شامل ہوسکتی ہے۔ سعودی عرب نے کچھ تیل بحیرۂ احمر سے مزید شمال کی جانب منتقل کرکے مصر کے راستے عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے متبادل پر بھی انحصار بڑھایا ہے۔
ایران اور حوثیوں کا تعلق بھی زیرِ بحث
حالیہ پیش رفت کے دوران ایران اور حوثیوں کے تعلقات بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ رائٹرز نے ایرانی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف حملے تیز کرنے کی ہدایت دی اور مزید فنڈز، ہتھیار اور اعلیٰ سطح کے افسران فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ تاہم ایران حوثیوں کو اپنا اتحادی قرار دیتا ہے اور انہیں پراکسی فورس قرار دینے یا انہیں براہِ راست فوجی ہدایات دینے کی تردید کرتا ہے۔
یمنی حکومت نے حوثیوں کے زیرِ قبضہ آنے والے علاقوں کو واپس لینے کے لیے جوابی کارروائی کی تیاری کا عندیہ بھی دیا ہے۔ اس صورتحال سے خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ یمن میں طویل عرصے سے موجود نسبتاً کم شدت کی جنگ دوبارہ بڑے پیمانے کی لڑائی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
محمد بن سلمان کی ٹرمپ سے مدد کی درخواست
موجودہ بحران کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کم از کم دو مرتبہ رابطہ کرکے حوثیوں کے خلاف فوجی مدد طلب کی ہے۔ رائٹرز کے مطابق امریکی حکام نے فی الحال حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی سے گریز کیا ہے، تاہم واشنگٹن نے سعودی عرب کو انٹیلی جنس شیئرنگ اور اہداف کی نشاندہی کے سلسلے میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔
وائٹ ہاؤس نے دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی مبینہ گفتگو پر براہِ راست تبصرہ نہیں کیا، تاہم ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ امریکا سعودی عرب اور یمنی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
عالمی تیل مارکیٹ پر دباؤ بڑھ گیا
ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی بندش اور باب المندب میں حوثیوں کی پیش قدمی نے عالمی توانائی منڈی کے لیے خطرات مزید بڑھا دیے ہیں۔ اگر آبنائے ہرمز اور باب المندب دونوں اہم راستوں پر طویل عرصے تک رکاوٹ برقرار رہتی ہے تو عالمی تیل سپلائی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
یہ صورتحال صرف سعودی عرب یا مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ یورپ، ایشیا اور دیگر خطوں میں توانائی کی قیمتوں، شپنگ اخراجات اور مجموعی مہنگائی پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں برینٹ خام تیل کی قیمت پہلے ہی 100 ڈالر فی بیرل کی سطح سے اوپر جاچکی ہے۔
موجودہ صورتحال میں اصل تشویش صرف ایک آئل پائپ لائن پر حملہ نہیں بلکہ توانائی کی ترسیل کے متبادل راستوں کا بیک وقت متاثر ہونا ہے۔ آبنائے ہرمز پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے اور اب اگر باب المندب بھی طویل عرصے تک غیر محفوظ رہتا ہے تو عالمی تیل منڈی کے لیے خطرات کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔
سعودی عرب نے ہرمز کی بندش کے اثرات کم کرنے کے لیے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو اہم متبادل کے طور پر استعمال کیا، لیکن اس پائپ لائن کو نشانہ بنائے جانے سے سعودی حکمت عملی کو بھی دھچکا لگا ہے۔ اب ریاض کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک طرف اپنی اہم تنصیبات کا تحفظ یقینی بنائے اور دوسری طرف خطے میں کشیدگی کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سفارتی راستے بھی کھلے رکھے۔
عوامی رائے
عوام کے لیے اس بحران کا سب سے بڑا اثر تیل اور توانائی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔ اگر عالمی سطح پر خام تیل کی قیمت مسلسل بلند رہتی ہے تو اس کے اثرات پٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ استعمال کی متعدد اشیا تک پہنچ سکتے ہیں۔
ماہرین کی رائے
توانائی کے ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے دو اہم بحری راستوں، ہرمز اور باب المندب، میں بیک وقت رکاوٹ عالمی توانائی سپلائی کے لیے غیر معمولی صورتحال پیدا کرسکتی ہے۔ سعودی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی عارضی بندش نے اس خدشے کو مزید نمایاں کردیا ہے کہ ایک راستے کو دوسرے سے تبدیل کرنا ہر صورت میں ممکن نہیں ہوتا، خصوصاً جب متبادل راستہ بھی حملوں کے خطرے سے دوچار ہو۔
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اب صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات عالمی توانائی، تجارت اور معیشت تک پہنچ رہے ہیں۔ سعودی عرب کی اہم تیل تنصیبات اور راستوں کو خطرہ پیدا ہونا عالمی منڈی کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خطے کے ممالک کشیدگی کم کرنے اور اہم تجارتی راستوں کو محفوظ رکھنے کے لیے سنجیدہ سفارتی کوششیں کریں۔
ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی بندش ایک اہم انتباہ ہے کہ موجودہ جنگ نے توانائی کے نظام کو انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ اگر ہرمز، باب المندب اور سعودی تیل کے متبادل راستے بیک وقت متاثر ہوئے تو اس کے اثرات صرف خلیجی ممالک تک محدود نہیں رہیں گے۔ دنیا بھر میں تیل کی قیمت، شپنگ اور مہنگائی متاثر ہوسکتی ہے۔ اس لیے موجودہ صورتحال میں جنگی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششوں کو تیز کرنا عالمی مفاد میں ہے۔





















