اسلام آباد/لاہور:(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) پاکستان میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے گھریلو صارفین کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے دعویٰ کیا ہے کہ سرکاری مقررہ قیمت سے کہیں زیادہ نرخوں پر گیس فروخت ہونے کے باعث صرف پانچ روز میں صارفین کو ایک ارب 40 کروڑ روپے سے زائد اضافی ادائیگی کرنا پڑی۔ ان کے مطابق اوگرا کی جانب سے قیمت مقرر ہونے کے باوجود مارکیٹ میں مہنگے داموں فروخت روکنے کے لیے مؤثر کارروائی نہیں کی جارہی۔
عرفان کھوکھر کے مطابق موسم میں تبدیلی کے باعث ایل پی جی کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں روزانہ تقریباً 60 ہزار سے 65 ہزار کلوگرام ایل پی جی استعمال ہوتی تھی، جو بڑھتی ہوئی طلب کے باعث تقریباً 70 ہزار کلوگرام تک پہنچ گئی ہے۔ تاہم ان کے فراہم کردہ اعداد و شمار اور تازہ مارکیٹ رپورٹس میں طلب کی پیمائش مختلف انداز سے بیان ہوئی ہے، اس لیے ان اعداد کو متعلقہ ایسوسی ایشن کے بیان کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
سرکاری نرخ اور بازار کی قیمت میں بڑا فرق
عرفان کھوکھر کے مطابق اوگرا نے اکتوبر کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمت تقریباً 279 روپے فی کلوگرام مقرر کی ہے، لیکن بعض مارکیٹوں میں صارفین کو اس سے کہیں زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ ان کے بیان میں قیمت 600 سے 625 روپے فی کلوگرام تک بتائی گئی، جس کے باعث فی کلوگرام تقریباً 320 روپے یا اس سے زیادہ اضافی ادائیگی کا دعویٰ کیا گیا۔
اوگرا کے اکتوبر 2026 کے نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی مقررہ قیمت 279.34 روپے فی کلوگرام ہے، جبکہ 11.8 کلوگرام کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 3,296.23 روپے مقرر کی گئی ہے۔ دوسری جانب 21 اکتوبر کی میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں قیمت تقریباً 500 روپے فی کلوگرام جبکہ پہاڑی علاقوں میں 600 روپے تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
اس فرق نے ان گھرانوں کے اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے جو کھانا پکانے اور دیگر گھریلو ضروریات کے لیے ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں، خصوصاً ایسے علاقوں میں جہاں پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس دستیاب نہیں یا اس کی فراہمی محدود ہے۔
اوگرا کی کارروائی پر سوالات
عرفان کھوکھر نے الزام عائد کیا ہے کہ ایل پی جی کی مہنگی فروخت کے معاملے پر اوگرا کے چیئرمین سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام کو متعدد مرتبہ آگاہ کیا گیا، لیکن ان کے بقول شکایات کے باوجود مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔
ان کا کہنا ہے کہ جب سرکاری نرخ اور مارکیٹ کی قیمت میں اتنا بڑا فرق موجود ہو تو اس کی نگرانی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر قیمتوں پر مؤثر کنٹرول نہ کیا گیا تو صارفین پر اضافی مالی بوجھ برقرار رہے گا۔
دوسری جانب دستیاب رپورٹنگ میں اوگرا کی جانب سے اس مخصوص پانچ روزہ اضافی ادائیگی کے تخمینے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے ایک ارب 40 کروڑ روپے سے زائد کی رقم کو ایسوسی ایشن کے دعوے کے طور پر بیان کرنا ضروری ہے۔
دکاندار بھی دباؤ کا شکار
خبر کے مطابق پنجاب میں پرائس کنٹرول اور نفاذ سے متعلق اداروں نے بعض ایل پی جی دکانداروں کے خلاف کارروائیاں کیں۔ دکانداروں کا مؤقف ہے کہ انہیں گیس مہنگے نرخوں پر فراہم کی جارہی ہے، اس لیے وہ اسے سرکاری مقررہ قیمت پر فروخت کرنے کی صورت میں مالی نقصان اٹھائیں گے۔
بعض دکانداروں نے شکایت کی کہ چھاپوں کے دوران ان کے گیس بھرنے والے آلات بھی لے جائے جاتے ہیں اور جرمانے بھی کیے جاتے ہیں، جبکہ ان کے بقول اصل قیمتوں کا تعین اور سپلائی کے نظام پر قابو پانے کے لیے بالائی سطح پر کارروائی ہونی چاہیے۔
اس صورتحال میں صارفین کے ساتھ ساتھ چھوٹے کاروباری افراد بھی دباؤ کا سامنا کررہے ہیں۔ تاہم دکانداروں کے مؤقف اور ان کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تفصیلات متعلقہ حکام کی جانب سے الگ سے تصدیق طلب ہیں۔
امپورٹرز ایسوسی ایشن نے قلت اور ٹرانسپورٹ اخراجات کو وجہ قرار دے دیا
ایل پی جی امپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر شیخ مکرم نے قیمتوں میں اضافے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ تفتان بارڈر کی بندش سے سپلائی متاثر ہوئی اور قلت پیدا ہونے کے باعث قیمتیں بڑھ گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ اوگرا کے ٹرانسپورٹیشن اخراجات سے متعلق طریقہ کار میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے۔
شیخ مکرم کے مطابق ایل پی جی باؤزر کی نقل و حمل پر تقریباً 50 ہزار سے 60 ہزار روپے خرچ آتا ہے، جبکہ ان کے بقول سرکاری حساب کتاب میں پرانے نرخوں کی بنیاد پر ٹرانسپورٹ کے اخراجات شامل کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے پر اوگرا کے چیئرمین اور دیگر اعلیٰ حکام کو متعدد مرتبہ آگاہ کیا گیا، لیکن ان کے تحفظات دور نہیں کیے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر سپلائی میں کمی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات سے متعلق مسائل حل نہ ہوئے تو کاروبار جاری رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔ امپورٹرز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ قیمتوں کے مسئلے کو صرف دکانداروں کے خلاف کارروائی سے حل نہیں کیا جاسکتا، بلکہ سپلائی، درآمدات، ٹرانسپورٹ اور سرکاری نرخوں کے تعین کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔
ایل پی جی کی فراہمی اور درآمدات کا معاملہ
عرفان کھوکھر کے مطابق ملک کی تقریباً 70 فیصد ایل پی جی درآمد کی جاتی ہے، جبکہ باقی تقریباً 30 فیصد ملکی پیداوار سے حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اقدامات کرکے سپلائی بہتر بنائے اور صارفین کو مناسب نرخوں پر گیس کی فراہمی یقینی بنائے۔
تاہم حالیہ رپورٹنگ میں ملکی پیداوار، درآمدات اور ایران سے آنے والی سپلائی کے تناسب کے حوالے سے مختلف اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ ڈان کی 21 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ ایل پی جی کی کھپت تقریباً 4,000 سے 4,500 ٹن ہے، جو سردیوں میں بڑھ کر 6,000 سے 7,000 ٹن تک پہنچ سکتی ہے۔ رپورٹ میں ایران سے سپلائی متاثر ہونے اور تجارتی راستوں کی بندش کو بھی قیمتوں میں اضافے کے عوامل میں شامل کیا گیا ہے۔
ایل پی جی کی قیمتوں کا مسئلہ صرف سرکاری نرخ اور دکان پر وصول کی جانے والی رقم کے فرق تک محدود نہیں۔ اس میں سپلائی کی دستیابی، درآمدی راستے، نقل و حمل کے اخراجات اور قیمتوں پر عمل درآمد کی نگرانی جیسے پہلو بھی شامل ہیں۔ موجودہ صورتحال میں ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے قیمتوں، سپلائی اور فروخت کے اعداد و شمار کی جانچ کریں اور جہاں مقررہ نرخوں کی خلاف ورزی ثابت ہو وہاں قانون کے مطابق کارروائی کریں۔
عوامی رائے
ایل پی جی کی مہنگی فروخت سے خاص طور پر ان گھرانوں کے اخراجات بڑھتے ہیں جو قدرتی گیس کی کمی کے باعث سلنڈروں پر انحصار کرتے ہیں۔ صارفین کے لیے ضروری ہے کہ انہیں مقررہ قیمت، دستیاب سپلائی اور شکایت درج کرانے کے طریقہ کار کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی جائیں۔
ماہرین کی رائے
توانائی کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے سپلائی کی مسلسل نگرانی، درآمدات کے متبادل انتظامات اور مارکیٹ میں قیمتوں کے مؤثر نفاذ کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ اگر سرکاری نرخ اور بازار کی قیمت میں غیر معمولی فرق پیدا ہو تو اس کی وجوہات کا جائزہ لے کر ذمہ داری کا تعین کرنا ضروری ہوتا ہے۔
ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ ایسے وقت میں صارفین کے لیے اضافی مشکل پیدا کرتا ہے جب سرد موسم کے آغاز کے ساتھ گیس کی طلب بھی بڑھنے لگتی ہے۔ متعلقہ اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ قیمتوں کی نگرانی، سپلائی کے انتظام اور صارفین کی شکایات پر بروقت توجہ دیں۔
اس معاملے میں ایک طرف صارفین کو مقررہ نرخ سے کہیں زیادہ قیمت ادا کرنے کی شکایات ہیں، جبکہ دوسری جانب امپورٹرز قلت اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات کو مسئلے کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔ مؤثر حل کے لیے ضروری ہے کہ ان تمام عوامل کی جانچ ہو، مقررہ قیمتوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور صارفین کو غیر ضروری مالی بوجھ سے بچانے کے لیے شفاف اقدامات کیے جائیں۔





















