تحریر: محمد وسیم جوکھیو
معاشرے کی حقیقی ترقی کی بنیاد تعلیم، شعور، محنت، معاشی خودمختاری اور اجتماعی ذمہ داری پر استوار ہوتی ہے۔ جس معاشرے کے افراد اپنی تعلیم، روزگار اور بنیادی ضروریات کے لیے سیاسی سفارشوں اور بااثر شخصیات کے وعدوں کے محتاج ہو جائیں، وہاں خودداری کے بجائے شخصی وابستگیوں کو فروغ ملنے لگتا ہے۔ اس صورتِ حال کا حل انفرادی قابلیت، اجتماعی شعور اور منصفانہ نظام کی تشکیل ہے۔
تعلیم کا مقصد علم کو عملی مہارت، پیشہ ورانہ قابلیت اور معاشرتی بہتری کا ذریعہ بنانا ہے۔ تعلیم کے لیے گھر یا شہر سے ہجرت بعض اوقات نئے امکانات پیدا کرتی ہے، لیکن کامیابی کا انحصار محض مقام کی تبدیلی پر نہیں، بلکہ واضح مقصد، دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال اور مسلسل محنت پر ہوتا ہے۔
نمائندوں سے عوامی مسائل کے حل کی توقع رکھنا شہریوں کا حق ہے، مگر عوامی خدمت کو ذاتی احسان یا سیاسی وفاداری سے مشروط کرنا معاشرتی اقدار کے منافی ہے۔ نمائندوں کی کارکردگی کو پرکھنا، ان سے جواب طلب کرنا اور ووٹ کو اجتماعی مفاد کے لیے استعمال کرنا باشعور شہری کی ذمہ داری ہے۔ تاہم، غربت، بے روزگاری اور غیر مساوی مواقع جیسے مسائل کا حل صرف انفرادی جدوجہد نہیں؛ ریاست کو بھی میرٹ، انصاف اور بنیادی سہولتوں تک مساوی رسائی یقینی بنانا ہوگی۔
معاشی خودمختاری کے لیے نوجوانوں کو تعلیم کے ساتھ فنی و پیشہ ورانہ مہارتیں حاصل کرنے، عملی تجربہ بڑھانے اور دستیاب وسائل کے مطابق مالی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح اپنے آئینی و قانونی حقوق سے آگاہی، حقِ معلومات کا مؤثر استعمال اور مقامی سطح پر باہمی تعاون عوام کو اپنے مسائل کے حل میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بناتے ہیں۔ خودانحصاری کا مطلب ریاستی ذمہ داریوں سے دست برداری نہیں، بلکہ اپنے حصے کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا ہے۔
ایک مہذب معاشرہ وہ ہے جہاں کسی نوجوان کی ترقی سفارش کی محتاج نہ ہو، کسی غریب کا بچہ وسائل کی کمی کے باعث تعلیم سے محروم نہ رہے اور کسی مستحق شہری کو بنیادی سہولتوں کے حصول کے لیے اپنی عزتِ نفس داؤ پر نہ لگانی پڑے۔ اس کے لیے فرد کی محنت، معاشرے کا تعاون اور ریاست کی جواب دہی لازم و ملزوم ہیں۔
حقیقی خودمختاری یہ نہیں کہ انسان دوسروں سے مدد لینا چھوڑ دے، بلکہ یہ ہے کہ مدد کو احسان، حق کو سفارش اور قابلیت کو سیاسی وابستگی کا محتاج نہ ہونا پڑے۔ جب
نوجوان سفارش کے انتظار کے بجائے اپنی صلاحیتوں کی تعمیر، شخصی وفاداری کے بجائے اصولی سیاست اور انفرادی مفاد کے بجائے اجتماعی ترقی کو ترجیح دیں گے، تبھی ایک خوددار، بااختیار اور منصفانہ معاشرے کی بنیاد مضبوط ہوگی۔





















