ایک وسیم مر گیا، باقی کس کے سہارے ہیں؟

روزگار دینے والا آخر کب سے کسی کی زندگی کا مالک ہوگیا؟

تحریر: رمیض حسین

پندرہ برس کی عمر خواب دیکھنے کی ہوتی ہے، کسی کی درشتی سہنے اور روٹی کے بدلے اپنی عزت گروی رکھنے کی نہیں۔ اس عمر میں بچے کتابوں میں اپنا مستقبل تلاش کرتے ہیں، کھیل کے میدانوں میں خوشیاں سمیٹتے ہیں اور گھر لوٹتے ہوئے اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشوں کا حساب لگاتے ہیں۔ مگر بعض بچوں کے حصے میں بچپن آتا ہی نہیں۔ غربت انہیں وقت سے پہلے بڑا کر دیتی ہے اور یتیمی ان کے سر سے وہ سایہ بھی چھین لیتی ہے جس کے نیچے بیٹھ کر وہ دنیا کی سختیوں سے کچھ دیر محفوظ رہ سکیں۔ وسیم عباس بھی ایسا ہی ایک بچہ تھا۔

ملتان کے اس پندرہ سالہ یتیم بچے کو مبینہ طور پر اس لیے گاڑی تلے کچل دیا گیا کہ وہ اپنے ساتھ غیر انسانی برتاؤ کرنے والے شخص کے ہاں مزید کام نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ذرا اس بات پر ٹھہریے۔ ایک بچہ کام چھوڑنا چاہتا تھا؛ اس نے اپنی زندگی کے بارے میں ایک معمولی سا اختیار مانگا تھا۔ اگر واقعہ بیان کردہ حالات کے مطابق پیش آیا، تو یہ محض غصے کا اظہار نہیں، ایک انسان کے دوسرے انسان پر ملکیت جتانے کی ہولناک صورت ہے۔ روزگار دینے والا آخر کب سے کسی کی زندگی کا مالک ہوگیا؟

ہم حیوانیت کا لفظ بہت آسانی سے بول دیتے ہیں، لیکن انسان جب اپنے اختیار، دولت یا طاقت کے غرور میں کسی کمزور کی جان لے لیتا ہے تو اس کے عمل کی سنگینی بیان کرنے کے لیے یہ لفظ بھی چھوٹا محسوس ہوتا ہے۔ جس بچے کی مجبوری دیکھ کر دل میں رحم پیدا ہونا چاہیے تھا، اسی مجبوری کو اس کی بے وقعتی سمجھ لیا گیا۔ ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ بعض نگاہوں میں غریب کا بچہ، بچہ کم اور کام کرنے والے ہاتھ زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی تھکن، توہین اور خوف کسی حساب میں شامل نہیں ہوتے۔

اس واقعے کے بعد ملزم توقیر نذیر کی بہاولپور میں مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت کی اطلاع سامنے آئی۔ سی سی ڈی کے بیان کے مطابق وہ حراست سے فرار ہوا تھا اور بعدازاں فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔ یہ پولیس کا بیان ہے، جس کی آزادانہ جانچ ضروری ہے۔ غم اور غصے سے بھرے بہت سے لوگ شاید کہیں کہ اسے اپنے کیے کی سزا مل گئی۔ مگر یہیں ایک سوال ہمارے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے: جسے ہم سزا کہہ رہے ہیں، کیا وہ انصاف بھی ہے؟

انصاف کا تقاضا جرم ثابت کرنا، شواہد پرکھنا، ذمہ داری متعین کرنا اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ ملزم کی ہلاکت کو عدالتی سزا قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس کے ساتھ کئی سوال بھی جواب کے منتظر رہ جاتے ہیں۔ بچہ پہلے کس نوعیت کے سلوک کا سامنا کرتا رہا؟ کیا کسی کو اس کی تکلیف کا علم تھا؟ اسے تحفظ کیوں نہ ملا؟ زیرِ حراست ملزم کیسے فرار ہوا؟ اگر فرار کرانے میں کوئی شریک تھا تو وہ کون تھا؟ ایک موت ان سوالوں کا جواب نہیں بن سکتی۔

عدالت میں پیشی کے دوران ملزم پر وکلاء کے مبینہ تشدد کی اطلاع بھی غور طلب ہے۔ قانون سے وابستہ افراد اگر خود سزا دینے لگیں تو مظلوم کے لیے انصاف کی امید کس دروازے پر باقی رہے گی؟ کسی بچے کے قتل کا دکھ شدید ترین ردعمل پیدا کرسکتا ہے، لیکن قانون کی حرمت اسی وقت آزمائی جاتی ہے جب سامنے ایسا شخص ہو جس کے خلاف جذبات بھڑکے ہوئے ہوں۔ انصاف کی مضبوطی کا مطلب یہی ہے کہ شدید نفرت کے باوجود فیصلہ ثبوت اور قانون کریں۔

پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ قتل کی سخت سزا کا علم ہونے کے باوجود کوئی شخص کسی کی جان لینے پر کیوں آمادہ ہوجاتا ہے؟ اس کا ایک ہی جواب نہیں۔ کبھی بے قابو اشتعال، کبھی انتقام، کبھی دوسرے انسان کو کمتر سمجھنے کی عادت اور کبھی بچ نکلنے کا یقین اس فیصلے کے پیچھے ہوتا ہے۔ بعض لوگ سزا کی سنگینی جانتے ہیں، مگر خود کو اس کے دائرے سے باہر تصور کرتے ہیں۔ انہیں گمان ہوتا ہے کہ پیسہ، تعلقات یا دباؤ ان کے لیے راستہ نکال دیں گے۔ اس مخصوص ملزم کے بارے میں ثبوت کے بغیر ایسا دعویٰ درست نہیں، لیکن اس سوچ پر گفتگو ناگزیر ہے۔

جب کسی معاشرے میں یہ تاثر جڑ پکڑ لے کہ طاقت ور کے لیے راستے کھل جاتے ہیں اور کمزور انصاف ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک جاتا ہے، تو قانون کا خوف مجروح ہوتا ہے۔ جرم روکنے کے لیے سزا کی سختی کے ساتھ گرفت اور منصفانہ کارروائی کا یقین بھی ضروری ہے۔ ایک بااثر شخص کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ مظلوم کی غربت اس کے جرم کو چھوٹا نہیں کرے گی اور اس کی اپنی دولت جواب دہی کا دروازہ بند نہیں کرسکے گی۔

وسیم کا مقدمہ صرف ایک ملزم اور چند اداروں تک محدود نہیں۔ یہ ہماری اجتماعی بے حسی کا مقدمہ بھی ہے۔ ہم اپنے گھروں، دکانوں اور ورکشاپوں میں بچوں کو کام کرتے دیکھتے ہیں۔ کبھی ان پر پڑنے والی جھڑک سن کر خاموش رہتے ہیں، کبھی ان کی محرومی کو معمول سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہمیں سانحے کے بعد رونا آتا ہے، سانحے سے پہلے کسی بچے کے خوف کو پڑھنا نہیں آتا۔ خاموشی ہر بار جرم میں شرکت نہیں ہوتی، مگر مسلسل خاموشی ظلم کے لیے جگہ ضرور بناتی ہے۔

وسیم کے لیے انصاف کا مطالبہ اس کے اہلِ خانہ کی قانونی، مالی اور نفسیاتی معاونت، واقعے اور مبینہ مقابلے کی شفاف تحقیقات، اور دوسرے بچوں کے تحفظ تک پہنچنا چاہیے۔ اسکول سے باہر، غیر محفوظ محنت میں مصروف بچے ہماری فوری توجہ کے مستحق ہیں۔ ان کے لیے شکایت، پناہ اور تعلیم کے قابلِ رسائی راستے ہونے چاہئیں۔
وسیم واپس نہیں آئے گا۔ اس کا چھن جانے والا بچپن کوئی فیصلہ لوٹا نہیں سکتا۔ مگر اس کی موت ہمیں ایک ذمہ داری دے گئی ہے: اگلے بچے کی آواز اس کے زندہ ہوتے ہوئے سن لی جائے۔ اگر ہم ایک ہلاکت پر مطمئن ہوکر گھروں کو لوٹ گئے اور دوسرے وسیم اسی خوف میں کام کرتے رہے، تو ایک خبر ختم ہوگی، ظلم کا سلسلہ نہیں۔ انصاف کی اصل گواہی وہ بچہ دے گا جو کل کسی طاقت ور کے سامنے کہہ سکے: میں یہاں کام نہیں کرنا چاہتا—اور زندہ سلامت اپنے گھر لوٹ جائے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین