ٹرمپ ایرانی تجاویز سے غیر مطمئن، تہران کا نئی ترمیم شدہ پلان پر سپریم لیڈر سے مشاورت کا فیصلہ

صدر ٹرمپ اور ان کی قومی سلامتی ٹیم نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کا جائزہ لیا،وائٹ ہاؤس

(ویب ڈیسک: خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران مذاکراتی عمل میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی صدر Donald Trump نے ایرانی تجاویز پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے، جبکہ تہران نے نئی ترمیم شدہ تجاویز پر اپنے اعلیٰ ترین فیصلے کیلئے سپریم لیڈر سے مشاورت کا فیصلہ کر لیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ٹرمپ اور ان کی قومی سلامتی ٹیم نے ایران کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کا جائزہ لیا، جس کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور خطے میں کشیدگی کم کرنا ہے، تاہم امریکی قیادت اسے فی الحال ناکافی سمجھ رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران کی تجویز میں Strait of Hormuz کو دوبارہ کھولنے کی پیشکش شامل ہے، بشرطیکہ جنگ کا خاتمہ کیا جائے، جبکہ جوہری پروگرام پر تفصیلی مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی بات بھی کی گئی ہے، جو امریکا کیلئے ایک حساس نکتہ ہے۔

امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے اس پیشکش کو ماضی کے مقابلے میں بہتر قرار دیا، لیکن واضح کیا کہ کسی بھی حتمی معاہدے میں یہ یقینی بنایا جائے گا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے، جو واشنگٹن کی بنیادی شرط ہے۔

دوسری جانب اطلاعات کے مطابق ایران نے نئی تجاویز کو حتمی شکل دینے کیلئے اپنے سپریم لیڈر سے مشاورت کیلئے چند دن مانگے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اندرونی سطح پر اہم فیصلے کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں کو ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کیلئے ممکنہ طویل ناکہ بندی کی تیاری کی ہدایت بھی دی ہے، تاکہ تہران کو یورینیم افزودگی روکنے پر مجبور کیا جا سکے، جو صورتحال کو مزید کشیدہ بنا سکتا ہے۔

ایرانی فوج نے بھی واضح کیا ہے کہ ملک تاحال جنگی صورتحال میں ہے اور کسی بھی نئی کارروائی کا بھرپور جواب دیا جائے گا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ عسکری تیاری بھی جاری ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ایک طرف مذاکرات جاری ہیں تو دوسری جانب دباؤ اور دھمکیوں کی حکمت عملی بھی اختیار کی جا رہی ہے، اور کسی بھی حتمی معاہدے کیلئے وقت، اعتماد اور لچک تینوں ناگزیر ہوں گے۔

یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطے میں امن کا راستہ ابھی طویل ہے، اور ہر نئی تجویز مستقبل کے توازن پر گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین