لاہور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)پاکستان میں غیر معیاری اور ناقص خوراک کے بڑھتے ہوئے استعمال نے شہریوں کی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ملک میں تقریباً 20 فیصد افراد جگر اور معدے کے مختلف امراض میں مبتلا ہیں، جبکہ 70 فیصد نوجوان نسل کمر درد اور جوڑوں کے درد جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایک عالمی محتاط سروے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں تقریباً 2 ارب افراد ناقص خوراک کے باعث مختلف بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مشرقی یورپ، افریقی ممالک اور برصغیر کے ممالک اس حوالے سے زیادہ متاثرہ خطوں میں شامل ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ غیر متوازن اور غیر معیاری خوراک دل، جگر اور معدے کی بیماریوں سمیت کئی دیگر طبی مسائل کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔ ان کے مطابق غذائی عادات میں تبدیلی اور صحت بخش خوراک کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر پانچ میں سے ایک شخص جگر یا معدے کی بیماری کی شکایت رکھتا ہے، جبکہ نوجوانوں میں کمر اور جوڑوں کے درد کی شرح بھی تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے، جو طرزِ زندگی اور ناقص غذائی عادات سے جڑی ہوئی سمجھی جا رہی ہے۔
اس حوالے سے معروف معالج ڈاکٹر شیراز ملک کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کو روزمرہ زندگی کے لیے مختلف اقسام کی توانائی اور غذائی اجزاء درکار ہوتے ہیں، جن کی مناسب فراہمی صرف خالص، متوازن اور معیاری خوراک سے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر عوام اپنی خوراک میں غذائیت سے بھرپور اشیاء کو شامل کریں اور غیر معیاری، پراسیسڈ اور ملاوٹ زدہ غذاؤں سے گریز کریں تو متعدد بیماریوں سے بچاؤ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق پاکستان میں ناقص خوراک، ملاوٹ، فاسٹ فوڈ کے بڑھتے ہوئے رجحان اور غیر متوازن طرزِ زندگی نے صحت کے مسائل میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اگر غذائی آگاہی اور صحت مند خوراک کے فروغ پر توجہ نہ دی گئی تو آنے والے برسوں میں جگر، معدے اور ہڈیوں سے متعلق بیماریوں کا بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے۔
عوامی رائے
شہریوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے اور خالص خوراک کی محدود دستیابی کے باعث معیاری غذا ہر فرد کی پہنچ میں نہیں رہی۔ عوام نے حکومت سے ملاوٹ کے خلاف سخت کارروائی اور غذائی معیار بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔
ماہرین کی رائے
غذائیت کے ماہرین کے مطابق متوازن غذا، تازہ پھل، سبزیاں، دودھ، دالیں، مناسب مقدار میں پروٹین، باقاعدہ ورزش اور پانی کا زیادہ استعمال جگر، معدے اور ہڈیوں کی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صحت مند طرزِ زندگی اپنانے سے کئی دائمی بیماریوں کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔
عوامی صحت کا تحفظ صرف علاج سے نہیں بلکہ بیماریوں کی بروقت روک تھام سے ممکن ہے۔ خالص خوراک کی فراہمی، غذائی معیار کی نگرانی اور صحت سے متعلق آگاہی مہمات وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہیں۔
میری رائے میں صحت مند معاشرے کی بنیاد معیاری خوراک ہے۔ اگر حکومت، متعلقہ ادارے اور عوام مل کر غذائی معیار بہتر بنانے، ملاوٹ کے خاتمے اور متوازن خوراک کے فروغ پر توجہ دیں تو بہت سی بیماریوں سے مؤثر انداز میں بچاؤ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔





















