جارجیا (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی ریلی کے دوران ایک حامی کی دلچسپ حرکت سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس نے خطاب کے دوران صدر ٹرمپ کے مخصوص اندازِ گفتگو، ہاتھوں کے اشاروں اور چہرے کے تاثرات کی نقل کر کے حاضرین اور آن لائن صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی ریاست جارجیا میں منعقدہ انتخابی ریلی کے دوران ٹرمپ کے عین پیچھے بیٹھا ایک شخص، جو سیاہ سوٹ اور سرخ ٹائی پہنے ہوئے تھا، براہِ راست نشریات میں کئی لمحوں تک صدر کے انداز کو مزاحیہ انداز میں دہراتا رہا۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مذکورہ شخص ٹرمپ کی تقریر کے دوران ان کے ہاتھوں کی حرکات، چہرے کے تاثرات اور گفتگو کے انداز کی نقل کرتا رہا، جس کے بعد اس نے اپنے اطراف میں بیٹھے دیگر افراد سے گفتگو بھی شروع کر دی۔
اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگئی، جہاں صارفین نے دلچسپ تبصرے کیے اور مختلف انداز میں اس منظر پر اپنی آراء کا اظہار کیا۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
View this post on Instagram
تقریباً 74 منٹ طویل خطاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کو "مختصر جھڑپ” قرار دیتے ہوئے اپنے سیاسی مخالفین کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے اپنی تقریر میں امریکا میں موجود مبینہ "کمیونسٹ عناصر” پر الزام عائد کیا کہ وہ تاریخی یادگار ماؤنٹ رشمور کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
خطاب کے دوران نشر ہونے والی فوٹیج میں یہ بھی دیکھا گیا کہ بعض شرکا تقریر سنتے ہوئے آپس میں گفتگو، موبائل فون استعمال کرنے اور دیگر سرگرمیوں میں مصروف رہے۔
واضح رہے کہ یہ انتخابی ریلی اسی روز منعقد ہوئی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈوور ایئر فورس بیس پر ایران کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے دوران ہلاک ہونے والے چار امریکی فوجیوں کی یاد میں منعقدہ تقریب میں بھی شرکت کی تھی۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق انتخابی جلسوں میں غیر متوقع لمحات اکثر سوشل میڈیا پر اصل سیاسی پیغام سے زیادہ توجہ حاصل کر لیتے ہیں۔ اس واقعے نے بھی یہی ثابت کیا کہ براہِ راست نشریات میں پیش آنے والے دلچسپ مناظر چند ہی لمحوں میں عالمی سطح پر وائرل ہو سکتے ہیں۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو پر ملا جلا ردعمل دیا۔ بعض افراد نے اسے محض تفریحی لمحہ قرار دیا، جبکہ کچھ نے اسے انتخابی ماحول کی دلچسپ جھلک قرار دیتے ہوئے مزاحیہ تبصرے کیے۔
ماہرین کی رائے
سیاسی ابلاغ کے ماہرین کے مطابق جدید دور میں انتخابی ریلیوں کے دوران پیش آنے والے غیر رسمی یا غیر متوقع مناظر سوشل میڈیا کے ذریعے تیزی سے پھیل جاتے ہیں، جس سے سیاسی شخصیات اور ان کے اجتماعات کی عوامی توجہ مزید بڑھ جاتی ہے۔
سوشل میڈیا کے دور میں سیاسی اجتماعات صرف تقاریر تک محدود نہیں رہے بلکہ وہاں پیش آنے والا ہر غیر معمولی لمحہ بھی عالمی سطح پر موضوعِ بحث بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ براہِ راست نشریات کے ہر منظر پر عوام کی گہری نظر ہوتی ہے۔
میری رائے میں یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ آج کے ڈیجیٹل دور میں ایک مختصر اور غیر متوقع منظر بھی پوری دنیا میں وائرل ہو سکتا ہے۔ تاہم کسی بھی ایسے واقعے کو اس کے اصل تناظر میں دیکھنا اور غیر ضروری قیاس آرائی سے گریز کرنا ضروری ہے۔





















