ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کے موجودہ ڈھانچے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دنیا بھر کے ممالک کی قسمت کو سلامتی کونسل کے 5 مستقل اراکین کے ہاتھوں میں دینے کے عمل کو مسترد کیا ہے۔
استنبول میں ٹی آر ٹی ورلڈ فورم سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ اقوام متحدہ میں جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ "دنیا 5 ممالک سے بڑی ہے، اور اسے صرف 5 مستقل اراکین کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا”۔ اردوان نے ویٹو پاور رکھنے والے ممالک کے نظام کو ناقابل قبول قرار دیا اور عالمی انصاف و امن کے لیے نئے اقدامات پر زور دیا۔
ترکی کے صدر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ موجودہ بحرانوں کے اثرات نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والی دوسری اور تیسری نسلوں تک جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں جاری انسانی بحران عالمی نظام کی ناکامیوں کو اجاگر کرتے ہیں، لیکن ان بحرانوں میں انصاف، امن، اور استحکام کے مواقع بھی موجود ہیں۔
اردوان نے بتایا کہ ترکی اور اسپین نے عالمی فوجداری عدالت اور تہذیبوں کے اتحاد کے لیے اقدامات اٹھائے ہیں تاکہ مختلف تہذیبوں کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون کو فروغ دیا جا سکے، خاص طور پر 2001 کے بعد کے حالات میں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تجارتی اور سفارتی میدانوں میں بڑھتی مسابقت دن بدن زیادہ جارحانہ ہوتی جا رہی ہے، جس سے عالمی انسانی حالات مزید بگڑ رہے ہیں۔
روس اور یوکرین کی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تنازع 4 سال سے جاری ہے اور بین الاقوامی نظام کی خامیوں کو ظاہر کرتا ہے۔
ترک صدر نے اقوام متحدہ کے اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے تمام ممالک کو عالمی امن، انصاف اور تعاون کے لیے نئے راستے اپنانا ہوں گے۔





















