ن لیگ دو تہائی اکثریت کے بغیر یک طرفہ فیصلے نہیں کر سکتی: بلاول بھٹو

پیپلز پارٹی نے ن لیگ کے وزیراعظم کو معاہدے کے تحت ووٹ دیا تھا

اتفاق رائے سے فیصلے کیے بغیر ن لیگ کامیاب حکومت نہیں کر سکتی، چیئرمین پیپلز پارٹی کا خطاب

لاڑکانہ: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ن لیگ کو خبردار کیا ہے کہ کامیاب حکومت کے لیے تمام فیصلے اتفاق رائے سے کرنے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ یہ نہ سمجھے کہ انہیں دو تہائی اکثریت حاصل ہے اور کسی سے مشورہ کرنے کی ضرورت نہیں۔

لاڑکانہ میں خطاب کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ پانی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور وفاق کو چاہیے کہ وہ تمام صوبوں کو ان کے حقوق فراہم کرے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ن لیگ کے وزیراعظم کو معاہدے کے تحت ووٹ دیا تھا اور امید ہے کہ ہماری شکایات کو سنجیدگی سے لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ن لیگ سے معاہدہ ہوا تھا کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ (پی ایس ڈی پی) تمام صوبوں کے ساتھ مل کر بنایا جائے گا، لیکن چھوٹے صوبوں کے ساتھ وفاق کا رویہ غیر مناسب رہا ہے۔ سندھ اور پنجاب کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے وعدہ کیے گئے فنڈز اب تک فراہم نہیں کیے گئے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ن لیگ کو چاہیے کہ وہ اپنی حکومت کے فیصلے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشورے سے کرے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ن لیگ کے پاس اتنی اکثریت نہیں کہ وہ متنازع اور یک طرفہ فیصلے کرے۔

بلاول نے مزید کہا کہ نہریں نکالنے کا فیصلہ کالاباغ ڈیم کی طرح یک طرفہ ہے۔ اس فیصلے کے خلاف احتجاج سندھ میں نہیں بلکہ خیبرپختونخوا میں ہوا تھا۔ ہم نے ایسے متنازع فیصلوں پر عمل درآمد نہیں ہونے دیا اور آئندہ بھی نہیں ہونے دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ کو سمجھنا ہوگا کہ اگر وہ کامیابی سے حکومت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں تمام فیصلے اتفاق رائے سے کرنے ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین