تحریر: عباس مہد
زندگی کا سب سے تلخ اور سنگین سچ یہ ہے کہ خواب مفت نہیں ملتے، ان کی قیمت انسان کو اپنے وجود کا گوشت، اپنے پاؤں کے آبلے اور اپنی ہڈیوں کا درد دے کر چکانی پڑتی ہے۔ جب خواہشات کی تپتی ہوئی دھوپ میں چپلیں گھس جائیں، ہاتھوں پر مشقت کے نشان نقش ہو جائیں اور راستے ختم ہونے کا نام نہ لیں، تو انسان کا امتحان صرف اس کی ہمت کا نہیں، بلکہ اس کے ظرف، اس کی سوچ اور اس کے استقلال کا ہوتا ہے۔ انسان جب اس کائنات کی بساط پر اپنے قدم رکھتا ہے، تو اس کے سینے میں خواہشات اور تمناؤں کی ایک پوری دنیا آباد ہوتی ہے۔ وہ اپنے اور اپنے پریشان حال گھر والوں کے لیے ایک پرسکون اور باوقار زندگی کا خواب دیکھتا ہے۔ اسی ایک معصوم خواب کی روشنی میں وہ ایک ایسی مسلسل اور کٹھن دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے جس کا کوئی کنارا بظاہر نظر نہیں آتا۔ ہمارے ملک کا کروڑوں نوجوان، جس نے سولہ یا بیس سال کتابوں کی روشنی میں اپنے ذہن کو جلا بخشی، وہ آج اسی مسافت کا مسافر ہے۔ وہ صبح کی پہلی کرن سے لے کر رات کے تاریک سائے ڈھلنے تک اپنے اور اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کی تلاش میں سرگرداں ہے۔
اس مسلسل، بے رحم اور تھکا دینے والی دوڑ میں ایک وقت ایسا آتا ہے جب انسان کی ہمت کا بندھن ٹوٹنے لگتا ہے۔ پاؤں کی چپلیں گھس جاتی ہیں، تلووں میں دردناک چھالے پڑ جاتے ہیں، اور سخت محنت و مشقت کی وجہ سے ہاتھوں کی جلد زخموں سے بھر جاتی ہے۔ ہڈیوں اور جوڑوں میں ایک ایسا مسلسل، خاموش اور زہریلا درد بس جاتا ہے جو انسان کو جسمانی ہی نہیں بلکہ روحی طور پر بھی توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ وہ ہر شام تھکا ہارا اپنے بستر پر لیٹتا ہے تو ایک ہی سوال اس کے ذہن کی دیواروں سے ٹکراتا ہے: "آخر یہ ریاضت کب رنگ لائے گی؟ آخر کب وہ گھڑی آئے گی جب اس بے لوث محنت کا صلہ ملے گا؟” مگر حالات کی بے رحمی، معاشی عدم استحکام اور نظام کی ناانصافی ہر موڑ پر اس کے راستے کا پتھر بن جاتی ہے۔
اس طویل اور دردناک سفر میں جس ایک واحد دلاسے پر کروڑوں انسان اور بالخصوص ہماری پڑھی لکھی نوجوان نسل قائم ہے، وہ صرف اور صرف "امید” کا دھاگا ہے۔ امید کہ شاید آنے والا کل مختلف ہوگا۔ امید کہ کوئی بند دروازہ کھلے گا اور محنت کو اس کا جائز مقام ملے گا۔ مگر جب سالہا سال کی جدوجہد، قابلیت اور دیانت داری کے باوجود نتائج صفر نکلیں، تو انسان کا ذہن سوالات کے خطرناک اور گہرے بھنور میں پھنس جاتا ہے۔ وہ اپنی بے بسی اور ٹوٹے ہوئے وجود کے ساتھ آسمان کی وسعتوں کی جانب دیکھتا ہے۔ اس کے ذہن میں فلسفیانہ اور وجودی سوالات جنم لیتے ہیں کہ وہ پروردگار، جو اس کائنات کا مطلق خالق اور مالک ہے، جو ایک ایک ذرے کی حرکت اور دل کے نہاں خانوں سے واقف ہے، وہ اس انسانی درد، اس جدوجہد اور ان بہتے ہوئے آنسوؤں کو دیکھ کر بھی اتنی خاموشی کیوں اختیار کیے ہوئے ہے؟ انسان کی محدود اور عجلت پسند عقل قدرت کی اس کائناتی حکمت اور تدریج کو فوراً سمجھنے سے قاصر رہ جاتی ہے۔
ادبی، سیاسی اور اجتماعی تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی معاشرے میں میرٹ کو پامال کر دیا جائے، جہاں باصلاحیت اور ہنرمند نوجوانوں کو ان کے حقوق سے محروم کر کے نااہل اور مفاد پرست لوگوں کو سر پر بٹھا دیا جائے، وہاں ایسی ہی فکری اور معاشی طغیانی جنم لیتی ہے۔ جب ڈگریاں بغل میں دبائے نوجوانوں کو روزگار کے بجائے ٹھوکریں ملیں، تو ان کا المیہ صرف معاشی نہیں رہتا، وہ نفسیاتی اور روحی زوال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مگر یہاں ایک کالم نگار اور ایک باہمدرد انسان کے طور پر ہمیں حقیقت کا دوسرا رخ بھی دیکھنا ہوگا۔
مشکلات اور سختیوں کا مقصد انسان کو مٹانا نہیں ہوتا، بلکہ یہ انسان کے اندر کی تمام تر کثافتوں کو جلا کر اس کے جوہرِ قابلیت کو نکھارنے کا ایک کٹھن ذریعہ ہوتی ہیں۔ یونانی فلسفیوں سے لے کر اردو ادب کے عظیم مفکروں تک، سب نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ انسان کا اصل امتحان اس کی آسائشوں میں نہیں، بلکہ اس کی سخت ترین آزمائشوں میں ہوتا ہے۔ اگر پاؤں کے چھالے اور جسمانی تھکن انسان کو سست کر دیں یا اسے مکمل ناامیدی کے اندھیروں میں دھکیل دیں، تو یہ اس کی روح کی شکست ہوگی۔
ہمیں یہ بات بحیثیتِ قوم اور بحیثیتِ فرد سمجھنی ہوگی کہ کالم نگاری صرف زخموں کو کریدنے یا محض دکھ کا مرثیہ پڑھنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ان اندھیروں میں چراغِ امید روشن کرنے کا فریضہ بھی ہے۔ آج کے اس سخت، معاشی و سیاسی بحران کے دور میں ہمارے نوجوانوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ سچی محنت اور لافانی جدوجہد کبھی مکمل طور پر ضائع نہیں جاتی۔ قدرت کا اپنا ایک وضع کردہ نظام ہے، جس میں ہر رات کے بعد سحر کا طلوع ہونا اٹل ہے۔
اگرچہ اس وقت حالات سخت ہیں، راستے دھندلے ہیں اور نظام نااہلی کا شاہکار بنا ہوا ہے، لیکن اپنے اندر کی شمع کو بجھنے دینا اصل ناکامی ہے۔ وقت کا پہیہ ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ یہ تاریک دور گزرے گا، محنت رنگ لائے گی، اور صبر و استقلال کے ساتھ کی جانے والی ہر جدوجہد کا ثمر ایک دن ضرور ظاہر ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اپنے پاؤں کے آبلوں کو اپنی کمزوری نہ بنائے، بلکہ انہیں اپنی اس جدوجہد کی گواہی بنائے جو اسے ایک دن کامیابی کے اعلیٰ مقام پر کھڑا کرے گی۔





















