مصنوعی ذہانت کا پراعتماد جھوٹ اور صحافی کی ذمہ داری

ٹیکنالوجی کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرلے، صحافت کی اصل طاقت انسانی فیصلہ سازی، تنقیدی سوچ، پیشہ ورانہ دیانت اور عوامی اعتماد ہی رہے گی

مصنوعی ذہانت کا پراعتماد جھوٹ اور صحافی کی ذمہ داری

خصوصی تحریر:رمیض حسین

مصنوعی ذہانت نے صحافت اور ابلاغ کے شعبے میں غیر معمولی امکانات پیدا کیے ہیں۔ خبروں کی تیاری، معلومات کے تجزیے، ترجمے، تحقیق اور مواد کی ترتیب جیسے کام پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے انجام دیے جا رہے ہیں۔ تاہم اس تیز رفتار ترقی نے صحافت کے سامنے ایک بنیادی سوال بھی کھڑا کردیا ہے: جو معلومات، تصویر، آواز یا ویڈیو ہمارے سامنے موجود ہے، کیا وہ واقعی مستند ہے؟

موجودہ دور میں غلط معلومات صرف جھوٹی تحریر تک محدود نہیں رہیں۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ایسی تصاویر، آوازیں اور ویڈیوز تیار کی جاسکتی ہیں جو بظاہر مکمل طور پر حقیقی دکھائی دیتی ہیں۔ کسی معروف شخصیت کی آواز نقل کرنا، اس کے چہرے کو کسی دوسری ویڈیو میں شامل کرنا یا اسے ایسے الفاظ ادا کرتے ہوئے دکھانا جو اس نے کبھی کہے ہی نہ ہوں، اب تکنیکی طور پر بہت آسان ہوچکا ہے۔ اس طرح کے مصنوعی مواد کو عام طور پر ’’ڈیپ فیک‘‘ کہا جاتا ہے۔

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی نے خبر کی تصدیق کے روایتی طریقوں کو ناکافی بنادیا ہے۔ پہلے کسی تصویر یا ویڈیو کو دیکھ کر اس کی حقیقت کا بڑی حد تک اندازہ لگایا جاسکتا تھا، لیکن اب صرف انسانی آنکھ پر اعتماد کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔ مصنوعی ویڈیوز میں چہرے کے تاثرات، آنکھوں کی حرکت، آواز کے اتار چڑھاؤ اور ہونٹوں کی ہم آہنگی کو اس مہارت سے تیار کیا جاتا ہے کہ عام ناظر کے لیے اصلی اور جعلی مواد میں فرق کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

اس صورتِ حال میں صحافیوں کے لیے بصری مواد کی جدید جانچ ناگزیر ہوچکی ہے۔ کسی ویڈیو یا تصویر کو نشر کرنے سے پہلے اس کا اصل ماخذ، اشاعت کا وقت، مقام اور سابقہ استعمال معلوم کرنا ضروری ہے۔ ریورس امیج سرچ، ویڈیو کے مختلف فریموں کی جانچ، مقامی جغرافیہ کا جائزہ اور مستند ذرائع سے تصدیق جیسے طریقے اب صحافتی عمل کا لازمی حصہ ہیں۔

مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والا ایک اور اہم مسئلہ ’’اے آئی ہیلوسینیشن‘‘ ہے۔ اس سے مراد ایسی صورتِ حال ہے جس میں مصنوعی ذہانت غلط، ادھوری یا مکمل طور پر فرضی معلومات کو نہایت پُراعتماد انداز میں درست حقیقت کے طور پر پیش کرتی ہے۔ وہ غیر موجود کتاب، فرضی تحقیق، غلط اعدادوشمار، من گھڑت حوالہ یا کسی شخصیت سے ایسا بیان منسوب کرسکتی ہے جو اس نے کبھی دیا ہی نہ ہو۔

یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت انسان کی طرح حقیقت کو سمجھ کر جواب نہیں دیتی، بلکہ دستیاب معلومات اور زبان کے نمونوں کی بنیاد پر موزوں الفاظ ترتیب دیتی ہے۔ اس لیے اس کا جواب بظاہر منطقی اور متاثرکن ہونے کے باوجود غلط ہوسکتا ہے۔ صحافیوں کو مصنوعی ذہانت سے ملنے والی ہر معلومات کو محض ابتدائی معاونت سمجھنا چاہیے، حتمی حقیقت نہیں۔

صحافت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ہر دعوے کی آزاد اور معتبر ذرائع سے تصدیق کی جائے۔ اگر مصنوعی ذہانت کوئی اعدادوشمار، تحقیقی نتیجہ، عدالتی فیصلہ، قانونی حوالہ یا کسی شخصیت کا بیان فراہم کرے تو اسے اصل دستاویز یا مستند ذریعے سے جانچنا ضروری ہے۔ تصدیق کے بغیر ایسی معلومات شائع کرنا نہ صرف صحافتی غفلت ہے بلکہ اس سے متعلقہ افراد، اداروں اور معاشرے کو سنگین نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ڈیجیٹل دور میں کسی میڈیا ادارے کا سب سے قیمتی اثاثہ اس کے قارئین، ناظرین یا پیروکاروں کی تعداد نہیں بلکہ ان کا اعتماد ہے۔ زیادہ ویوز اور تیز رفتار اشاعت وقتی کامیابی تو دے سکتے ہیں، مگر غلط خبر سے مجروح ہونے والا اعتماد آسانی سے بحال نہیں ہوتا۔ ایک غیر مصدقہ اطلاع چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ اس کی تردید یا اصلاح عموماً اتنی تیزی سے نہیں پھیلتی۔

سوشل میڈیا نے خبر اور رائے کے درمیان فرق کو بھی دھندلا دیا ہے۔ جذباتی سرخیاں، سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے گئے بیانات، پرانی ویڈیوز کو نئے واقعات سے منسوب کرنا اور ترمیم شدہ تصاویر کو حقیقی قرار دینا معمول بنتا جارہا ہے۔ ایسے ماحول میں صحافی کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ دستیاب مواد آگے پہنچا دے، بلکہ اسے یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ اس مواد کا اصل ذریعہ کیا ہے، اسے کس مقصد کے لیے پھیلایا جارہا ہے اور اس کے ممکنہ سماجی اثرات کیا ہوسکتے ہیں۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر کامیابی کا معیار صرف مواد کا وائرل ہونا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ مواد عوام کو درست اور مفید معلومات فراہم کررہا ہے یا محض خوف، نفرت، اشتعال اور سنسنی پیدا کررہا ہے۔ کسی خبر کی اشاعت سے پہلے یہ جانچنا ضروری ہے کہ اس سے کسی فرد کی عزت، نجی زندگی، سلامتی یا بنیادی حقوق متاثر تو نہیں ہوں گے۔

مصنوعی ذہانت صحافی کے لیے ایک مؤثر معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ بڑی مقدار میں دستیاب معلومات کا تجزیہ، دستاویزات کا خلاصہ، مختلف زبانوں کا ترجمہ اور موضوعات کی ابتدائی تحقیق آسان بنا سکتی ہے۔ تاہم یہ صحافی کا متبادل نہیں بن سکتی، کیونکہ حقائق کے انتخاب، اخلاقی فیصلے، انسانی حالات کی تفہیم اور عوامی مفاد کے تعین کے لیے انسانی بصیرت ناگزیر ہے۔

غیر جانب داری، جواب دہی، حقائق کی تلاش، کمزور طبقات کے حقوق کا تحفظ اور تمام متعلقہ فریقوں کا مؤقف پیش کرنا صحافت کی بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔ کوئی الگورتھم ان ذمہ داریوں کو مکمل طور پر ادا نہیں کرسکتا۔ مصنوعی ذہانت معلومات فراہم کرسکتی ہے، لیکن اس معلومات کو درست تناظر میں سمجھنا اور اس کے ممکنہ اثرات کا فیصلہ کرنا صحافی ہی کا کام ہے۔

مصنوعی ذہانت کے دور میں صحافت کا مستقبل ٹیکنالوجی سے مزاحمت میں نہیں بلکہ اس کے محتاط، شفاف اور ذمہ دارانہ استعمال میں پوشیدہ ہے۔ میڈیا اداروں کو اپنے کارکنوں کی فیکٹ چیکنگ، ڈیپ فیک کی شناخت، ڈیجیٹل تحفظ اور مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال کے حوالے سے مسلسل تربیت کرنا ہوگی۔ اسی طرح قارئین اور ناظرین میں ذرائع کی جانچ اور مشکوک مواد کو آگے نہ پھیلانے کا شعور پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔

آنے والے دور میں کامیاب صحافی وہ نہیں ہوگا جو سب سے پہلے خبر جاری کرے، بلکہ وہ ہوگا جو تیز رفتار معلوماتی دباؤ کے باوجود درست، متوازن اور مصدقہ خبر فراہم کرے۔ ٹیکنالوجی کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرلے، صحافت کی اصل طاقت انسانی فیصلہ سازی، تنقیدی سوچ، پیشہ ورانہ دیانت اور عوامی اعتماد ہی رہے گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین