پیدائش سے قبل رحم مادر میں بچے کی نایاب سرجری، پیدائشی نقص کامیابی سے دور

آنتیں جسم سے باہر نشوونما پا رہی تھیں؛ برطانوی، امریکی اور بیلجیئم ماہرین کی مشترکہ کاوش سے بچہ صحت مند پیدا ہوا

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)ابھی بچے نے دنیا میں آنکھ بھی نہیں کھولی تھی کہ اس کی زندگی بچانے کے لیے ڈاکٹروں نے رحمِ مادر ہی میں ایک غیرمعمولی آپریشن کا فیصلہ کر لیا۔ جدید طب، ماہر ڈاکٹروں کی مہارت اور والدین کے حوصلے نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔

طب کی دنیا میں ایک غیرمعمولی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں ماہر ڈاکٹروں نے رحمِ مادر میں موجود بچے کی سرجری کرکے اس کی آنتوں کا سنگین پیدائشی نقص کامیابی سے دور کر دیا۔ سرجری کے بعد بچہ نہ صرف مکمل مدتِ حمل تک رحمِ مادر میں محفوظ رہا بلکہ صحت مند پیدا ہوا اور اب معمول کے مطابق نشوونما پا رہا ہے۔

شمالی لندن سے تعلق رکھنے والی 29 سالہ مائزی سیویج کو حمل کے 20ویں ہفتے کے معمول کے الٹراساؤنڈ کے دوران معلوم ہوا کہ ان کا بیٹا ایک پیچیدہ پیدائشی کیفیت ’’گیسٹروشیسس‘‘ میں مبتلا ہے۔ اس مرض میں بچے کے پیٹ، عموماً ناف کے قریب، ایک سوراخ رہ جاتا ہے اور آنتیں پیٹ کے اندر رہنے کے بجائے جسم سے باہر نشوونما پانے لگتی ہیں۔

مزید طبی معائنے سے معلوم ہوا کہ بچے کی حالت عام نوعیت کی نہیں بلکہ خاصی پیچیدہ تھی۔ ایسے بچوں کو پیدائش کے فوراً بعد کئی آپریشنوں، طویل عرصے تک انتہائی نگہداشت اور مصنوعی طریقے سے غذا کی فراہمی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ بعض شدید صورتوں میں آنتوں کی پیوندکاری بھی ناگزیر ہو جاتی ہے۔

تشخیص کے بعد مائزی سیویج اور ان کے شریکِ حیات جوش فرنچ کو امریکا میں جاری ایک منفرد آزمائشی طبی منصوبے میں شرکت کی پیشکش کی گئی۔ دونوں پیشے کے اعتبار سے استاد ہیں۔ امید کی یہ کرن دکھائی دینے پر انہوں نے علاج کے لیے امریکا جانے کا فیصلہ کیا۔

اسے بھی پڑھیں: پاکستان آبادی میں اضافہ کا نیا ریکارڈ بنانے جارہا ہے: وفاقی وزیر صحت

حمل کے 26ویں ہفتے میں ٹیکساس چلڈرنز ہسپتال، ہیوسٹن میں ماہرین کی ٹیم نے مائزی کی سرجری کی۔ ڈاکٹروں نے رحم کو جزوی طور پر نمایاں کرکے نہایت باریک بینی سے کی ہول سرجری کے ذریعے بچے کی باہر موجود آنتوں کو دوبارہ پیٹ کے اندر منتقل کیا۔ اس دوران رحم میں موجود پانی کو نکال کر دوبارہ محفوظ انداز میں بھرا گیا۔

سرجری سے قبل بچے کے عضلات کو نرم کرنے اور عمل کو نسبتاً آسان بنانے کے لیے بلجیئم کے ایک طبی مرکز میں خصوصی انجکشن بھی دیا گیا تھا۔ اس آزمائشی منصوبے میں امریکا کے ٹیکساس چلڈرنز ہسپتال، لندن کے گریٹ اورمنڈ اسٹریٹ ہسپتال اور بلجیئم کی کے یو لیوون یونیورسٹی کے ماہرین شریک ہیں۔

طبی ٹیم کی کئی گھنٹوں پر محیط محنت کامیاب رہی اور سرجری کے دوران یا اس کے بعد ماں اور بچے کو کوئی بڑی پیچیدگی پیش نہیں آئی۔ تھیو مکمل مدتِ حمل کے بعد فروری میں ٹیکساس میں پیدا ہوا۔ پیدائش کے فوراً بعد اس نے ماں کا دودھ پینا شروع کر دیا اور صرف چار روز بعد اسے ہسپتال سے گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔

تھیو دنیا کا صرف تیسرا اور برطانیہ سے تعلق رکھنے والا پہلا بچہ ہے جسے پیدائش سے پہلے اس جدید طریقۂ علاج سے فائدہ پہنچا۔ اب وہ اپنے والدین کے ساتھ برطانیہ واپس آ چکا ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق اس کی صحت اور نشوونما اطمینان بخش ہے۔

مائزی سیویج اور جوش فرنچ نے اپنے بیٹے کو ’’ایک ننھا معجزہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس علاج نے تھیو کو زندگی کے انتہائی تکلیف دہ آغاز، متعدد آپریشنوں اور طویل عرصے تک ہسپتال میں قیام سے بچا لیا۔ ان کے بقول آج وہ بنیادی طور پر دوسرے بچوں کی طرح ایک صحت مند اور معمول کی زندگی گزار رہا ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق گیسٹروشیسس برطانیہ میں تقریباً ہر تین ہزار پیدائشوں میں سے ایک بچے کو متاثر کرتی ہے۔ پیچیدہ صورتوں میں بہترین علاج کے باوجود تقریباً دس فیصد بچے جانبر نہیں ہو پاتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مزید مریضوں میں اس آزمائشی طریقۂ علاج کے نتائج بھی کامیاب رہے تو مستقبل میں پیچیدہ گیسٹروشیسس کا علاج بچے کی پیدائش سے پہلے ہی ممکن ہو سکے گا۔ یہ کامیابی رحمِ مادر میں دل، پھیپھڑوں اور دیگر سنگین پیدائشی نقائص کی سرجری کے لیے بھی نئی راہیں کھول سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین