ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے بڑا ریلیف ختم ہونے کا امکان، آئندہ ماہ بجلی مہنگی ہونے کا خدشہ

اس حوالے سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں درخواست بھی جمع کرا دی ہے

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے جاری بڑا ریلیف ختم ہونے کے قریب پہنچ گیا ہے، جس کے بعد آئندہ ماہ سے بجلی کے نرخوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق بجلی کے نرخوں میں ایک روپے 99 پیسے فی یونٹ کمی کی مد میں دیا جانے والا سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ ریلیف رواں ماہ اگست میں اپنی مدت پوری کر لے گا۔ یہ ریلیف جون 2026 سے نافذ کیا گیا تھا، جس کے تحت بجلی صارفین کو مجموعی طور پر 67 ارب 17 کروڑ روپے سے زائد کا فائدہ پہنچ رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق موجودہ ریلیف ختم ہونے کے بعد اپریل تا جون 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ آئندہ ماہ سے لاگو کیے جانے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے اس حوالے سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں درخواست بھی جمع کرا دی ہے۔ درخواست میں بجلی صارفین پر 23 ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ ڈالنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ اضافہ اوسطاً تقریباً ایک روپے فی یونٹ بنتا ہے، تاہم بجلی کے نرخوں میں حتمی اضافے یا کمی کا فیصلہ نیپرا کی جانب سے درخواست کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق بجلی صارفین کے لیے موجودہ ریلیف کے خاتمے اور نئی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے نفاذ سے ماہانہ بجلی کے بلوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ تاہم حتمی صورتحال نیپرا کے فیصلے کے بعد ہی واضح ہوگی۔

عوامی رائے

بجلی کے نرخوں میں ممکنہ اضافے کی خبر پر صارفین میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کے پہلے ہی بھاری بل گھریلو بجٹ کو متاثر کر رہے ہیں، اس لیے حکومت اور متعلقہ اداروں کو صارفین پر مزید مالی بوجھ ڈالنے سے گریز کرنا چاہیے۔

ماہرین کی رائے

توانائی کے ماہرین کے مطابق سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کے نرخوں میں تبدیلی کا براہِ راست اثر صارفین کے بلوں پر پڑتا ہے۔ ان کے مطابق نیپرا کی جانب سے درخواست کی منظوری یا مسترد کیے جانے کے بعد ہی اصل مالی اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔

بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات پہلے ہی عوام کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہیں۔ ایسے میں ریلیف کے خاتمے سے قبل صارفین کو واضح اور شفاف معلومات فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ بجلی کے نرخوں اور بلوں میں ممکنہ تبدیلی کے بارے میں عوام کو درست آگاہی حاصل ہو۔

میری رائے میں موجودہ ریلیف کے خاتمے اور ممکنہ نئے اضافے سے پہلے حکومت کو عوام پر پڑنے والے مالی اثرات کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔ حتمی فیصلہ نیپرا کرے گا، اس لیے فی الحال مجوزہ اضافے کو حتمی بجلی قیمت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین