بھولی بسری یادیں مکمل طور پر مٹتی نہیں، تحقیق میں اہم انکشاف

وقت کے ساتھ بعض یادیں مٹنے کے بجائے دماغ میں ایسی حالت اختیار کر لیتی ہیں جہاں انہیں فوری طور پر یاد نہیں کیا جا سکتا

(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)نئی تحقیق میں اہم انکشاف ہوا ہے کہ بظاہر بھولی ہوئی کچھ یادیں دماغ سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں بلکہ ایک خاموش حالت میں محفوظ رہ سکتی ہیں اور مناسب ماحول یا کسی خاص یاددہانی کے ذریعے دوبارہ ذہن میں واپس لائی جا سکتی ہیں۔

سائنس دانوں نے پھلوں کی مکھیوں پر کیے گئے تجربات میں مشاہدہ کیا کہ جس ماحولیاتی ماحول میں کوئی یاد تشکیل پاتی ہے، اسی سے ملتا جلتا ماحول دوبارہ فراہم کرنے سے وہ یاد دوبارہ فعال ہو سکتی ہے۔

محققین کے مطابق اس مشاہدے سے یہ امکان سامنے آتا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ بعض یادیں دماغ سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں بلکہ ایسی حالت اختیار کر لیتی ہیں جہاں انہیں فوری طور پر یاد کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

یادیں اچانک واپس کیسے آتی ہیں؟

ماہرین کے مطابق انسانی یادداشت ایک انتہائی پیچیدہ نظام ہے اور اس کے کام کرنے کے طریقۂ کار کو اب بھی مکمل طور پر نہیں سمجھا جا سکا۔ کچھ یادیں وقت گزرنے کے ساتھ کمزور پڑ جاتی ہیں، جبکہ بعض یادیں بظاہر ذہن سے غائب ہونے کے باوجود کسی مخصوص منظر، جگہ، خوشبو یا دوسرے اشارے کے ذریعے اچانک دوبارہ یاد آ سکتی ہیں۔

تحقیق کے نتائج سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ماحول اور بیرونی محرکات بعض یادوں کو دوبارہ فعال کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

حقیقی اور جھوٹی یادوں کا پیچیدہ تعلق

محققین کے مطابق تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ دماغ حقیقی یادوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بعض اوقات ایسی یادیں بھی تشکیل دیتا ہے جو حقیقت میں پیش نہیں آئی ہوتیں۔

سائنس دانوں کے لیے اب بھی یہ ایک اہم سوال ہے کہ حقیقی یادوں کی بازیابی اور غلط یا جھوٹی یادوں کی تشکیل کے پیچھے کون سے عصبی عمل کام کرتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے، تاہم موجودہ نتائج یادداشت کے بارے میں اس تصور کو تقویت دیتے ہیں کہ ہر بھولی ہوئی یاد لازماً دماغ سے مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتی۔

تحقیق کی اہمیت

محققین کے مطابق یہ تحقیق اس بات کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہے کہ یادیں دماغ میں کس طرح محفوظ رہتی ہیں، وقت کے ساتھ ان کی حالت کس طرح تبدیل ہوتی ہے اور انہیں دوبارہ فعال کرنے میں ماحول، یاددہانی اور دیگر بیرونی اشارے کس نوعیت کا کردار ادا کرتے ہیں۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق تحقیق کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ بظاہر بھولی ہوئی یادوں کو ہمیشہ مکمل طور پر ختم شدہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم چونکہ یہ تجربات پھلوں کی مکھیوں پر کیے گئے ہیں، اس لیے ان نتائج کو براہِ راست انسانی دماغ پر لاگو کرنے سے پہلے مزید تحقیق اور انسانی مطالعات کی ضرورت ہوگی۔

عوامی رائے

اس نوعیت کی تحقیق عام افراد کے لیے بھی دلچسپی کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ اکثر لوگ زندگی میں ایسے تجربات سے گزرتے ہیں جب کوئی پرانی خوشبو، جگہ، تصویر یا آواز اچانک برسوں پرانی یاد ذہن میں واپس لے آتی ہے۔

ماہرین کی رائے

ماہرین کے مطابق یادداشت ایک پیچیدہ عصبی عمل ہے جس میں دماغ معلومات کو محفوظ کرنے، انہیں برقرار رکھنے اور ضرورت کے وقت دوبارہ حاصل کرنے کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے۔ نئی تحقیق ان مراحل کو سمجھنے کے لیے مزید شواہد فراہم کرتی ہے، تاہم انسانی یادداشت کے مکمل طریقۂ کار کو سمجھنے کے لیے مزید مطالعات ضروری ہیں۔

یادداشت انسانی زندگی کا ایک بنیادی حصہ ہے اور ماضی کے تجربات ہماری شخصیت، فیصلوں اور رویوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگرچہ نئی تحقیق یادوں کے محفوظ رہنے کے حوالے سے ایک دلچسپ پہلو سامنے لاتی ہے، تاہم سائنسی نتائج کو حتمی سمجھنے کے بجائے مزید تحقیق کے نتائج کا انتظار ضروری ہے۔

میری رائے میں اس تحقیق کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بعض یادیں بظاہر ذہن سے غائب ہونے کے باوجود مکمل طور پر ختم نہ ہوئی ہوں بلکہ کسی مخصوص اشارے یا ماحول کے ذریعے دوبارہ فعال ہو سکتی ہیں۔ تاہم چونکہ موجودہ تجربات پھلوں کی مکھیوں پر کیے گئے ہیں، اس لیے انسانی یادداشت کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے سے پہلے مزید سائنسی شواہد کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین