ممبئی (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت نے سینئر بھارتی اداکار نصیرالدین شاہ اور پیوش مشرا کے درمیان جاری لفظی تنازع میں نصیرالدین شاہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’لومڑی‘ سے تشبیہ دے دی۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب نصیرالدین شاہ نے طلبہ کے احتجاج پر بالی ووڈ کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے فلم انڈسٹری کا موازنہ ایسے ’کتے‘ سے کیا جو منہ میں ہڈی ہونے کی وجہ سے بھونک نہیں سکتا۔
نصیرالدین شاہ کے اس بیان کے بعد اداکار پیوش مشرا نے بھی ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان سے سوال کیا کہ اگر وہ بالی ووڈ کی خاموشی پر تنقید کر رہے ہیں تو انہیں خود بھی یہ بتانا چاہیے کہ وہ طلبہ کے احتجاج کے دوران کہاں موجود تھے۔
کنگنا رناوت کا طنزیہ ردعمل
پیوش مشرا کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کنگنا رناوت نے نصیرالدین شاہ کو نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ انہیں کتے کے بجائے ’لومڑی‘ کہنا پسند کریں گی۔
کنگنا کے مطابق وفاداری کے اعتبار سے کتے سے تشبیہ ملنا بھی قابلِ فخر بات ہو سکتی ہے، اس لیے وہ نصیرالدین شاہ کے لیے لومڑی کی مثال کو زیادہ مناسب سمجھتی ہیں۔
کنگنا نے مزید دعویٰ کیا کہ نصیرالدین شاہ بھارت میں رہتے اور یہیں سے کماتے ہیں، تاہم ان کی ہمدردیاں پڑوسی ملک کے لیے ہیں۔
تنازع مزید شدت اختیار کر گیا
کنگنا رناوت کے تازہ بیان کے بعد نصیرالدین شاہ اور پیوش مشرا کے درمیان جاری اختلاف میں کنگنا کی شمولیت سے معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ صارفین کنگنا کے بیان کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ بعض صارفین کا کہنا ہے کہ فنکاروں کو سیاسی اور سماجی معاملات پر اختلاف کے باوجود ذاتی نوعیت کے حملوں سے گریز کرنا چاہیے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ تنازع صرف دو اداکاروں کے درمیان اختلاف تک محدود نہیں رہا بلکہ اس میں کنگنا رناوت کی شمولیت کے بعد بالی ووڈ میں طلبہ احتجاج اور فنکاروں کی ذمہ داری کے حوالے سے جاری بحث مزید نمایاں ہوگئی ہے۔
تاہم مختلف فنکاروں کے سیاسی اور سماجی مؤقف ذاتی رائے کے زمرے میں آتے ہیں، اس لیے ان بیانات کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کنگنا رناوت کے بیان پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بعض صارفین نے کنگنا کے طنزیہ انداز کو درست قرار دیا، جبکہ دیگر نے نصیرالدین شاہ کے مؤقف اور بالی ووڈ کی جانب سے طلبہ کے احتجاج پر خاموشی کے معاملے کو اصل بحث قرار دیا۔
ماہرین کی رائے
میڈیا اور سماجی امور کے مبصرین کے مطابق معروف شخصیات کے درمیان اس نوعیت کے بیانات سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوتے ہیں اور اصل مسئلے کے بجائے شخصیات کے باہمی اختلاف کو بحث کا مرکز بنا دیتے ہیں۔ ان کے مطابق طلبہ کے احتجاج جیسے اہم معاملات پر اصل توجہ مطالبات، مسائل اور ان کے ممکنہ حل پر ہونی چاہیے۔
فنکاروں کو معاشرتی اور سیاسی معاملات پر اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے، تاہم اختلاف رائے کو ذاتی حملوں میں تبدیل کرنے کے بجائے دلیل اور مؤقف تک محدود رکھنا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
میری رائے میں نصیرالدین شاہ، پیوش مشرا اور کنگنا رناوت کے درمیان جاری لفظی بحث نے طلبہ احتجاج سے متعلق بالی ووڈ کے کردار کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ تاہم شخصیات پر طنزیہ حملوں کے بجائے اصل مسئلے پر سنجیدہ بحث زیادہ مفید ثابت ہو سکتی ہے۔





















