گھنٹوں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھنے والوں کیلئے اہم خبر، پوسچر درست کرنے کا آسان طریقہ کیا ہے؟

پوسچر کریکٹر مستقل علاج نہیں بلکہ غلط انداز میں بیٹھنے سے بچنے کی یاد دہانی ہوسکتا ہے،ماہرین

دفتر میں گھنٹوں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھنا، موبائل فون یا لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہوئے مسلسل آگے جھکنا اور ایک ہی پوزیشن میں طویل وقت گزارنا آج کل معمول بن چکا ہے۔ یہی عادات وقت کے ساتھ گردن، کندھوں اور کمر پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں اور پوسچر یعنی بیٹھنے اور کھڑے ہونے کے انداز کو متاثر کرسکتی ہیں۔

ایسے افراد کے لیے مارکیٹ میں مختلف اقسام کی پوسچر کریکٹر بیلٹس دستیاب ہیں، جنہیں کندھوں کو پیچھے رکھنے اور جسم کو سیدھا رکھنے میں مددگار قرار دیا جاتا ہے۔ تاہم اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ بیلٹ واقعی خراب پوسچر کو مستقل طور پر درست کرسکتی ہے یا اس کا فائدہ صرف وقتی نوعیت کا ہوتا ہے؟

ماہرین کے مطابق پوسچر کریکٹر کو باقاعدہ علاج کے بجائے ایک یاد دہانی یا اشارے کے طور پر سمجھنا زیادہ درست ہے۔ جب کسی شخص کے کندھے آگے کی طرف جھکنے لگتے ہیں تو بیلٹ کے اسٹریپس ہلکی مزاحمت پیدا کرتے ہیں، جس سے اسے اپنی جسمانی پوزیشن کا احساس ہوسکتا ہے اور وہ دوبارہ سیدھا ہونے کی کوشش کرتا ہے۔

تاہم صرف بیلٹ پہن لینے سے جسم مستقل طور پر درست پوسچر سیکھ لیتا ہے، اس دعوے کی مضبوط بنیاد موجود نہیں۔ بیلٹ کسی شخص کو کچھ وقت کیلئے سیدھا رکھنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن طویل مدتی بہتری کیلئے جسمانی حرکت، پٹھوں کی مضبوطی، مناسب ورک اسٹیشن اور اپنی بیٹھنے کی عادت پر توجہ دینا زیادہ اہم ہے۔

کیا پوسچر کریکٹر واقعی کمر سیدھی کر دیتا ہے؟

پوسچر کریکٹر پہننے سے کندھوں کو پیچھے رکھنے اور جھکنے کی عادت کا احساس ضرور ہوسکتا ہے، لیکن اسے مستقل حل سمجھنا درست نہیں۔ اگر کوئی شخص روزانہ کئی گھنٹے غلط پوزیشن میں بیٹھتا رہے اور صرف بیلٹ پر انحصار کرے تو بنیادی مسئلہ برقرار رہ سکتا ہے۔

درحقیقت بہتر پوسچر کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان پورا دن ایک ہی انداز میں بالکل سیدھا بیٹھا رہے۔ امریکی ادارے او ایس ایچ اے کی ایرگونومکس گائیڈنس کے مطابق کام کے دوران پوزیشن تبدیل کرنا ضروری ہے، خواہ موجودہ بیٹھنے کی پوزیشن بظاہر درست ہی کیوں نہ ہو۔ ادارہ باقاعدگی سے کھڑے ہونے، چند منٹ چلنے پھرنے اور کرسی یا جسم کی پوزیشن میں معمولی تبدیلیاں کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔

OSHA کے مطابق طویل عرصے تک ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے رہنا جسم پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے، جبکہ غلط یا غیر فطری پوزیشن میں مسلسل کام کرنے سے پٹھوں اور جسم کے دوسرے حصوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

پوسچر کریکٹر خریدتے وقت کیا دیکھیں؟

اگر کوئی شخص پوسچر کریکٹر استعمال کرنا چاہتا ہے تو ایسا ماڈل منتخب کرنا بہتر ہے جو جسم کے مطابق ایڈجسٹ ہوسکے۔ بیلٹ کا مقصد کندھوں کو زبردستی بہت زیادہ پیچھے کھینچنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ جھکنے کی صورت میں ہلکا سا احساس دلانا ہونا چاہیے تاکہ صارف اپنی پوزیشن خود درست کرسکے۔

اسے مستقل جسمانی سہارا سمجھنے کے بجائے محدود وقت کیلئے پوسچر ریمائنڈر کے طور پر استعمال کرنا زیادہ مناسب ہے۔ اگر اسے بہت زیادہ سخت یا غیر آرام دہ انداز میں پہنا جائے تو اس سے قدرتی حرکت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

صرف بیلٹ نہیں، اپنی کرسی بھی دیکھیں

غلط پوسچر کی وجہ ہمیشہ جسمانی کمزوری نہیں ہوتی۔ بعض اوقات اصل مسئلہ وہ ورک اسٹیشن ہوتا ہے جہاں انسان روزانہ کئی گھنٹے کام کرتا ہے۔

کرسی میں کمر کے نچلے حصے یعنی لمبر ریجن کو مناسب سہارا ملنا چاہیے۔ اگر کرسی میں یہ سہولت موجود نہ ہو تو مناسب لمبر سپورٹ یا کشن مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

کمپیوٹر اسکرین بھی مناسب جگہ پر ہونی چاہیے۔ OSHA کی رہنمائی کے مطابق مانیٹر کو سامنے ایسی اونچائی پر رکھنا بہتر ہے جہاں اسے دیکھنے کیلئے سر کو بار بار آگے یا پیچھے جھکانا نہ پڑے۔ اسی طرح کی بورڈ اور ماؤس بھی ایسی جگہ ہوں جہاں انہیں استعمال کرنے کیلئے جسم کو بار بار آگے جھکنا یا غیر فطری انداز میں بازو پھیلانا نہ پڑے۔

اگر اسکرین بہت نیچے ہو تو انسان غیر محسوس طور پر گردن اور دھڑ کو آگے لے جاسکتا ہے، جبکہ غلط اونچائی یا غیر مناسب ورک اسٹیشن مسلسل غیر فطری پوسچر اختیار کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

ورزش اور حرکت بھی ضروری

صرف باہر سے جسم کو سہارا دینے کے بجائے اپنی جسمانی طاقت اور حرکت پر توجہ دینا زیادہ جامع حکمت عملی ہوسکتی ہے۔ عمومی طاقت، موبیلیٹی اور اسٹریچنگ کی مشقیں جسم کو مختلف پوزیشنز میں بہتر انداز سے حرکت دینے میں مدد دے سکتی ہیں۔

اسی طرح کام کے دوران مختصر وقفے لینا، کچھ دیر کھڑے ہونا، چند قدم چلنا اور پوزیشن تبدیل کرنا بھی اہم ہے۔ OSHA بھی طویل عرصے تک ایک ہی پوزیشن میں رہنے سے گریز اور کام کے دوران باقاعدگی سے پوزیشن تبدیل کرنے پر زور دیتا ہے۔

اگر کسی شخص کو پوسچر کے ساتھ مسلسل درد، سن ہونا، ہاتھوں یا بازوؤں میں جھنجھناہٹ، حرکت میں نمایاں کمی یا کمر اور گردن کی تکلیف رہتی ہو تو صرف پوسچر کریکٹر پر انحصار کرنے کے بجائے طبی ماہر یا فزیوتھراپسٹ سے مشورہ کرنا زیادہ مناسب ہے۔

پوسچر کریکٹر بیلٹ کو ایک آسان حل سمجھنا فطری بات ہے، لیکن اصل مسئلہ اکثر ہماری روزمرہ عادات اور ورک اسٹیشن کے ڈیزائن میں چھپا ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص روزانہ آٹھ دس گھنٹے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھتا ہے اور ہر چند منٹ بعد جسم کی پوزیشن تبدیل نہیں کرتا تو صرف بیلٹ پہننے سے مسئلہ مستقل طور پر حل نہیں ہوگا۔ بہتر حکمت عملی یہ ہے کہ بیلٹ کو صرف یاد دہانی کے طور پر استعمال کیا جائے اور ساتھ ہی بیٹھنے کی جگہ، اسکرین کی پوزیشن، وقفوں اور جسمانی ورزش پر بھی توجہ دی جائے۔

عوامی رائے

عوام میں پوسچر کریکٹر بیلٹس کے حوالے سے دلچسپی بڑھ رہی ہے کیونکہ موبائل، لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر کے بڑھتے ہوئے استعمال نے جھک کر بیٹھنے کی عادت کو عام کردیا ہے۔ بہت سے افراد بیلٹ کو فوری حل سمجھتے ہیں، تاہم آگاہی کی ضرورت ہے کہ کسی بھی سپورٹ ڈیوائس کو مستقل علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

ماہرین کی رائے

ایرگونومکس کے اصولوں کے مطابق جسم کو ایک ہی پوزیشن میں طویل وقت تک رکھنے کے بجائے کام کے دوران پوزیشن تبدیل کرنا، ورک اسٹیشن کو جسم کے مطابق ایڈجسٹ کرنا اور غیر فطری پوسچر سے گریز کرنا زیادہ اہم ہے۔ OSHA کی گائیڈنس بھی مناسب لمبر سپورٹ، درست مانیٹر پوزیشن اور کام کے دوران حرکت و پوزیشن تبدیل کرنے کی اہمیت واضح کرتی ہے۔

روزنامہ تحریک کے نزدیک پوسچر کریکٹر بیلٹ کو ایک معاون آلہ سمجھنا چاہیے، مکمل علاج نہیں۔ اگر لوگ اپنی کرسی، میز، کمپیوٹر اسکرین اور روزمرہ بیٹھنے کے انداز کو درست کرنے کے ساتھ جسمانی سرگرمی اور وقفوں کو معمول بنائیں تو پوسچر سے متعلق مسائل کو کم کرنے میں زیادہ مدد مل سکتی ہے۔

میرے خیال میں پوسچر کریکٹر کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ انسان کو اس کی غلط پوزیشن کا احساس دلاتا ہے۔ لیکن اگر بیلٹ اتارنے کے بعد انسان دوبارہ اسی طرح جھک کر بیٹھ جائے تو مستقل فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ اصل کامیابی اس وقت ہے جب انسان بغیر کسی بیلٹ کے بھی اپنی پوزیشن کا خیال رکھنے لگے۔ اس لیے بیلٹ سے زیادہ اہم صحیح ورک اسٹیشن، مسلسل حرکت، مناسب ورزش اور اپنی عادات میں تبدیلی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین