برطانیہ کی پورٹسماؤتھ یونیورسٹی کے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر، میلون ووپسن نے حیران کن دعویٰ کیا ہے کہ ہم سب ممکنہ طور پر ایک "میٹرکس طرز” کی مصنوعی حقیقت یا کمپیوٹر سمیولیشن میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انہوں نے یہ نظریہ اس بنیاد پر پیش کیا ہے کہ ہماری دنیا، جو ہمیں حقیقی لگتی ہے، دراصل ویسی نہیں جیسی نظر آتی ہے۔
مصنوعی ذہانت کے زیرِکنٹرول سمیولیشن
پروفیسر ووپسن کا کہنا ہے کہ ہم سب کے کردار اور زندگیاں ایک جدید مصنوعی ذہانت کے تحت تخلیق کردہ سمیولیشن میں طے کی گئی ہیں۔ یہ سمیولیشن ممکنہ طور پر انسانی تہذیب کے مستقبل کے متعلق تجربات کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔پروفیسر کے مطابق، یہ سمیولیشن تین بنیادی مقاصد کے تحت ہو سکتی ہے:
- تفریح کے لیے: ہم نے پیدائش کے وقت سمیولیشن میں شامل ہونے کا انتخاب کیا تاکہ ایک دلچسپ اور من گھڑت زندگی کا تجربہ کیا جا سکے۔
- مسائل حل کرنے کے لیے: یہ سمیولیشن کسی بڑے ماحولیاتی، اقتصادی یا سماجی مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے چلائی جا رہی ہے۔
- لافانی تجربات کے لیے: سمیولیشن میں وقت اور زندگی کے کئی تجربات ممکن ہیں جو حقیقی دنیا میں محدود ہیں۔
’میٹرکس‘ جیسی حقیقت
یہ نظریہ ایلون مسک جیسے مشہور افراد کے خیالات سے بھی ملتا جلتا ہے، جن کا کہنا ہے کہ ہماری کائنات ایک "بنیادی حقیقت” نہیں بلکہ ایک نقلی دنیا ہو سکتی ہے۔
پروفیسر ووپسن کے مطابق، فزکس کے قوانین، روشنی اور آواز کی رفتار، اور کائنات پر حکمرانی کرنے والے اصول کمپیوٹر کوڈ سے مشابہ ہیں، جو اس نظریے کی بنیاد کو مضبوط کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سمیولیشن میں وقت کا بہاؤ حقیقی دنیا سے مختلف ہو سکتا ہے، جس کی مثال خوابوں میں دیکھی جا سکتی ہے، جہاں چند سیکنڈ کا خواب گھنٹوں یا دنوں کا محسوس ہوتا ہے۔
تحقیق کا مقصد
پروفیسر نے واضح کیا کہ یہ نظریہ قیاس آرائی پر مبنی ہے اور سائنسی طور پر مکمل طور پر ثابت شدہ نہیں۔ تاہم، یہ انسانی شعور اور مصنوعی ذہانت کے تعلقات کو بہتر طور پر سمجھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔





















