ٹیکسٹائل صنعت شدید بحران سے دوچار،600جننگ فیکٹریاں بند، ہزاروں مزدور بیروزگار

اس بحران کی بنیادی وجہ کپاس کے پورے پیداواری نظام کی کمزوری ہے،ماہرین

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی ٹیکسٹائل صنعت خام مال کی قلت، مہنگی بجلی، بڑھتی پیداواری لاگت اور کپاس کی مسلسل کم ہوتی پیداوار کے باعث سنگین بحران سے دوچار ہے۔ یہ صورتِ حال انتہائی افسوس ناک اور تشویش ناک ہے کہ جو ملک کبھی اعلیٰ معیار کی کپاس اور ٹیکسٹائل مصنوعات کے حوالے سے دنیا بھر میں پہچانا جاتا تھا، آج اپنی صنعت کا پہیہ چلانے کے لیے درآمدی سوتی دھاگے پر انحصار بڑھانے پر مجبور ہے۔

بحران کی شدت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ متعدد ٹیکسٹائل یونٹس بند ہو رہے ہیں، پیداواری سرگرمیاں محدود کی جا رہی ہیں اور ہزاروں مزدوروں کا روزگار خطرے میں پڑ چکا ہے۔ اگر یہ صورتِ حال برقرار رہی تو اس کے اثرات صرف صنعت کاروں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ کسان، جنرز، پاور لومز، برآمدکنندگان، ٹرانسپورٹرز اور لاکھوں محنت کش خاندان بھی اس معاشی زنجیر کے ٹوٹنے سے متاثر ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق اس بحران کی بنیادی وجہ کپاس کے پورے پیداواری نظام کی کمزوری ہے۔ کھاد، معیاری بیج، زرعی ادویات، ڈیزل اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے نے کپاس کی کاشت کو مہنگا بنا دیا ہے، جبکہ کسان کو فصل کی مناسب اور بروقت قیمت نہیں ملتی۔ نتیجتاً کاشت کار کپاس چھوڑ کر نسبتاً زیادہ منافع دینے والی فصلوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔

پاور لومز ایسوسی ایشن کے صدر خالق قندیل انصاری کا کہنا ہے کہ کسانوں کو مناسب امدادی قیمت نہ ملنے اور زرعی اخراجات میں مسلسل اضافے نے کپاس کی کاشت کو غیر منافع بخش بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق سوتی دھاگے کی برآمد سے پہلے ملکی ٹیکسٹائل صنعت کی ضروریات پوری کرنے کو ترجیح دی جانی چاہیے، تاکہ مقامی صنعت خام مال کی قلت کا شکار نہ ہو۔

صورتحال کا ایک اور تشویش ناک پہلو جننگ کے شعبے کا سکڑاؤ ہے۔ کاٹن جنرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں کبھی تقریباً 1200 جننگ فیکٹریاں فعال تھیں، مگر اب یہ تعداد کم ہو کر تقریباً 600 رہ گئی ہے۔ نصف فیکٹریوں کا عملی طور پر منظر سے غائب ہو جانا محض کاروباری ناکامی نہیں بلکہ کپاس کی پوری معیشت کے زوال کی علامت ہے۔

مہنگی بجلی نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ٹیکسٹائل اور پاور لومز جیسے توانائی پر انحصار کرنے والے شعبوں کے لیے بلند نرخوں پر پیداوار جاری رکھنا مشکل ہو چکا ہے۔ جب مقامی صنعت کی پیداواری لاگت علاقائی حریف ممالک سے زیادہ ہو تو پاکستانی مصنوعات کے لیے عالمی منڈی میں قیمت اور معیار دونوں سطحوں پر مسابقت برقرار رکھنا دشوار ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں برآمدی آرڈرز کم ہونے، زرِمبادلہ کی آمد متاثر ہونے اور صنعتی روزگار سکڑنے کا خدشہ بڑھ رہا ہے۔

افسوس ناک امر یہ ہے کہ کپاس کا بحران اچانک پیدا نہیں ہوا۔ کم ہوتی پیداوار، ناقص بیج، جعلی یا غیر معیاری زرعی ادویات، موسمی تبدیلی، پانی کی قلت، امدادی قیمت کے غیر مؤثر نظام اور کپاس کے مخصوص علاقوں میں گنے کی بڑھتی کاشت جیسے مسائل برسوں سے سامنے آ رہے ہیں، مگر ان کے حل کے لیے مستقل اور مربوط حکمتِ عملی اختیار نہیں کی گئی۔

پاکستان کو فوری طور پر کپاس اور ٹیکسٹائل کے شعبوں کے لیے مشترکہ قومی پالیسی تشکیل دینا ہوگی۔ کسان کو منافع بخش اور یقینی قیمت، معیاری بیج، مؤثر زرعی ادویات، تحقیق، جدید کاشت کاری، فصل بیمہ اور سستی توانائی فراہم کیے بغیر کپاس کی پیداوار میں پائیدار اضافہ ممکن نہیں۔ اسی طرح سوتی دھاگے کی درآمد و برآمد کی پالیسی کو ملکی صنعت کی ضروریات، برآمدی اہداف اور کسان کے مفاد سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔

کپاس کی بحالی صرف ایک فصل کا معاملہ نہیں؛ یہ پاکستان کی برآمدات، زرِمبادلہ، صنعتی ترقی اور لاکھوں خاندانوں کے روزگار کا سوال ہے۔ اگر حکومت، کاشت کار اور صنعت مل کر بروقت فیصلے کریں تو مقامی خام مال کی دستیابی بڑھ سکتی ہے، درآمدی اخراجات کم ہو سکتے ہیں، ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر پاکستان اپنی سب سے بڑی برآمدی صنعت کو بتدریج سکڑتا دیکھتا رہے گا—اور یہ قومی معیشت کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہوگا۔

متعلقہ خبریں

[td_block_8 art_title_pos="bottom" info_pos="bottom" art_excerpt_pos="bottom" art_audio_pos="bottom" modules_category="image" btn_pos="bottom" hide_audio="yes" modules_on_row="" modules_gap="6" show_excerpt="none" sort="popular" limit="20" time_ago_add_txt="پہلے" show_author="none" modules_extra_cat="hide" show_com="none" show_review="none" show_btn="none" header_color="#291670" header_text_color="#ffffff" block_template_id="td_block_template_1" f_title_font_size="17" tdc_css="eyJhbGwiOnsiZGlzcGxheSI6IiJ9fQ==" m7f_title_font_size="18" time_ago="yes" linked_posts="" custom_title="مقبول ترین"]