دل کی بیماری میں ورزش کے حیران کن فوائد، نئی تحقیق سامنے آ گئی

یہ تحقیق جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع ہوئی

لاہور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ باقاعدہ جسمانی سرگرمی دل کی بے ترتیب دھڑکن (ایٹریل فبریلیشن) کے شکار افراد میں فالج اور قبل از وقت موت کے خطرے میں نمایاں کمی سے منسلک ہو سکتی ہے۔

یہ تحقیق جرنل آف دی امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن میں شائع ہوئی، جس میں ناروے کے 87 ہزار سے زائد بالغ افراد کا تقریباً 15 برس تک جائزہ لیا گیا۔ محققین نے قومی صحت کے ریکارڈز کی مدد سے شرکا میں ایٹریل فبریلیشن، فالج اور اموات کے رجحانات کا تجزیہ کیا۔

ماہرین کے مطابق ایٹریل فبریلیشن دل کی ایک ایسی کیفیت ہے جس میں دل کے اوپری حصے (ایٹریا) کی دھڑکن بے ترتیب یا غیر معمولی طور پر تیز ہو جاتی ہے۔ اس کے باعث خون کے لوتھڑے بننے، فالج اور دیگر قلبی پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ وہ افراد جو ایٹریل فبریلیشن کے باوجود باقاعدگی سے جسمانی سرگرمی یا ورزش کرتے رہے، ان میں فالج کا خطرہ نسبتاً کم دیکھا گیا، جبکہ ان کے زیادہ عرصہ تک زندہ رہنے کے امکانات بھی بہتر رہے۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی سفارش کے مطابق بالغ افراد کو ہر ہفتے کم از کم 150 منٹ معتدل شدت یا 75 منٹ زیادہ شدت والی ایروبک ورزش کرنی چاہیے، جبکہ ہفتے میں کم از کم دو دن پٹھوں کو مضبوط بنانے والی ورزش بھی معمول کا حصہ بنانی چاہیے۔

محققین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ورزش کے فوائد پر پہلے بھی متعدد تحقیقات ہو چکی ہیں، تاہم یہ مطالعہ اس بات کے مزید شواہد فراہم کرتا ہے کہ جسمانی سرگرمی دل کی بے ترتیبی کے مریضوں میں مجموعی صحت بہتر بنانے اور فالج کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق دل کی بیماریوں میں صرف ادویات ہی نہیں بلکہ صحت مند طرزِ زندگی بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ تحقیق اس تصور کو مزید مضبوط کرتی ہے کہ مناسب ورزش علاج کا متبادل تو نہیں، لیکن اس کا مؤثر معاون ضرور ثابت ہو سکتی ہے۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے تحقیق کے نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ورزش کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا چاہیے۔ کئی افراد نے اس بات پر زور دیا کہ دل کے مریض ورزش شروع کرنے سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔

ماہرین کی رائے

قلبی ماہرین کے مطابق ایٹریل فبریلیشن کے مریض اپنی جسمانی حالت اور ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق مناسب ورزش کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ باقاعدہ جسمانی سرگرمی دل کی صحت، خون کی روانی اور مجموعی جسمانی فٹنس بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، تاہم ہر مریض کے لیے ورزش کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔

صحت مند زندگی کے لیے متوازن غذا، باقاعدہ ورزش اور بروقت طبی معائنہ بنیادی ستون ہیں۔ جدید تحقیقات بھی یہی بتا رہی ہیں کہ صحت مند عادات نہ صرف بیماریوں کے خطرات کم کرتی ہیں بلکہ معیارِ زندگی بھی بہتر بناتی ہیں۔

میری رائے میں یہ تحقیق ایک اہم پیغام دیتی ہے کہ دل کے مریض اگر اپنے معالج کے مشورے کے مطابق مناسب جسمانی سرگرمی کو معمول بنا لیں تو اس سے نہ صرف ان کی مجموعی صحت بہتر ہو سکتی ہے بلکہ مستقبل میں پیچیدگیوں کے خطرات میں بھی کمی آ سکتی ہے۔ تاہم کسی بھی نئی ورزش کا آغاز طبی مشورے کے بغیر نہیں کرنا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین