حلال میڈیا: جدید دور میں مثبت اور اخلاقی ابلاغ کا مؤثر ذریعہ

حلال میڈیا صرف مذہبی پروگرامنگ تک محدود نہیں بلکہ اس میں نیوز، فلم، ڈرامہ، سوشل میڈیا، اشتہارات، ڈاکیومنٹریز اور ڈیجیٹل مواد سمیت تمام ذرائع ابلاغ شامل ہیں

حلال میڈیا: جدید دور میں مثبت اور اخلاقی ابلاغ کا مؤثر ذریعہ

(ڈاکٹر منیر حسین ، ڈپٹی ڈائریکٹر CHART)

ڈیجیٹل دور میں میڈیا انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے، جہاں معلومات، تفریح اور رائے سازی میں اس کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ اسی تناظر میں’’حلال میڈیا‘‘کا تصور عالمی سطح پر تیزی سے توجہ حاصل کر رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد ایسا میڈیا فروغ دینا ہے جو اسلامی اخلاقیات، سماجی اقدار اور مثبت پیغام رسانی پر مبنی ہو۔

ماہرین کے مطابق حلال میڈیا صرف مذہبی پروگرامنگ تک محدود نہیں بلکہ اس میں نیوز، فلم، ڈرامہ، سوشل میڈیا، اشتہارات، ڈاکیومنٹریز اور ڈیجیٹل مواد سمیت تمام ذرائع ابلاغ شامل ہیں، بشرطیکہ ان کا مواد اخلاقی اصولوں، سچائی، شائستگی اور انسانی فلاح کے تقاضوں کے مطابق ہو۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق عالمی سطح پر مسلم نوجوانوں میں ایسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی طلب بڑھ رہی ہے جو مثبت، تعمیری اور خاندانی اقدار کے مطابق مواد فراہم کریں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی اسلامی ممالک میں حلال میڈیا پلیٹ فارمز، اسٹریمنگ سروسز اور اسلامی ڈیجیٹل چینلز تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حلال میڈیا معاشرے میں نفرت، فحاشی، جھوٹی خبروں اور غیر اخلاقی مواد کے تدارک میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس کے ذریعے نہ صرف اسلامی تعلیمات اور تہذیبی اقدار کو فروغ دیا جا سکتا ہے بلکہ نوجوان نسل کی فکری و اخلاقی تربیت بھی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔

پاکستان میں بھی حلال میڈیا کے فروغ کے امکانات روشن سمجھے جا رہے ہیں۔ جامعات اور تحقیقی ادارے میڈیا، ابلاغیات اور حلال انڈسٹری کے باہمی تعلق پر تحقیق کر رہے ہیں تاکہ ایک ایسا میڈیا ماڈل متعارف کروایا جا سکے جو جدید تقاضوں کے ساتھ اسلامی اخلاقیات کو بھی برقرار رکھے۔ماہرین کے مطابق اگر حلال میڈیا کو جدید ٹیکنالوجی، تخلیقی صلاحیتوں اور عالمی معیار کے ساتھ فروغ دیا جائے تو یہ نہ صرف معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے بلکہ عالمی میڈیا انڈسٹری میں ایک منفرد اور مؤثر مقام بھی حاصل کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین