شاہ محمود قریشی نے زور دیا کہ انہیں پارٹی سربراہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ وہ قومی اتفاق رائے اور سیاسی استحکام کے لیے اپنا نقطہ نظر پیش کرسکیں۔ ان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حکومت مبینہ طور پر تحریک انصاف پر پابندی اور خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے پر غور کر رہی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ کرنے کا منصوبہ مضحکہ خیز ہے اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہوگی، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو شورش، دہشت گردی اور دیگر مسائل کا سامنا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت پر زور دیا کہ وہ اس فیصلے کی ممکنہ سیاسی اور قومی نتائج کو سمجھیں اور ایسے کسی اقدام کی مخالفت کریں۔
انہوں نے پیپلز پارٹی کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی پر پابندی کے خلاف قرارداد کی مخالفت کی۔ اسی طرح، انہوں نے جے یو آئی (ف)، جماعت اسلامی، اور بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی مینگل) سمیت دیگر جماعتوں کا بھی بلوچستان اسمبلی میں قرارداد کی مخالفت پر شکریہ ادا کیا۔
تاہم، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سینیٹر ایمل ولی خان کے پی ٹی آئی پر پابندی کی حمایت پر انہوں نے حیرت کا اظہار کیا۔
سابق وزیر خارجہ نے وفاقی وزیر خزانہ کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا حکومت سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام یا آئی ایم ایف کی فنڈنگ حاصل کر سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ آمرانہ حکمرانی سے وقتی استحکام تو حاصل ہوسکتا ہے لیکن یہ دیرپا نہیں ہوگا۔





















